Urdu book · الربَّانِيَّةُ

ربانی انسان

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

تقویٰ کیا ہے قرآن میں تقویٰ کی بہت زیادہ اہمیت بتائی گئی ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ ہدایت اسی شخص کو ملتی ہے جس کے اندر تقویٰ ہو۔ تمام عبادات کا خلاصہ تقویٰ کو بتایا گیا ہے۔ جنت ان لوگوں کے لیے ہے جو تقویٰ والی روح لے کر اپنے رب کے پاس پہنچیں ۔ تقویٰ ایمان و اسلام کا حاصل ہے۔ تقویٰ کا مطلب اللہ سے ڈرنا ہے۔ انسان جب خدا کے وجود کو دریافت کرتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا ہر قسم کے عظمت و جلال کا مالک ہے۔ وہی دینے والا اور وہی چھینے والا ہے۔ ایسے خدا کا تصور آدمی کے اندر جو زلزلہ خیز کیفیت پیدا کرتا ہے، اسی کا نام تقویٰ ہے۔ تقویٰ اس بات کی علامت ہے کہ آدمی نے اپنے رب کو پالیا۔ جس آدمی کے اندر تقویٰ کی کیفیت پیدا ہو جائے، وہ خدا کی یاد میں جینے لگتا ہے۔ اس کو ہر روز اور ہر موقع پر خدا کی یاد آتی رہتی ہے۔ ایسے آدمی کی نظر میں خدا سب سے بڑی ہستی ہوتا ہے۔ یہ عقیدہ ہر لمحہ اس کے اندر ایک نہ دکھائی دینے والا طوفان برپا کرتا رہتا ہے۔ ایسا آدمی ہر وقت خدا کے احساس میں نہایا ہوا ہوتا ہے۔ تقویٰ کی کیفیت آدمی کے دل کو ایک اندیشہ ناک دل بنا دیتی ہے، وہ آخری حد تک ایک ذمہ دار انسان بن جاتا ہے۔ خدا کی پکڑ کا خوف اس کو اس طرح بے قرار کر دیتا ہے کہ کسی حال میں وہ بے حس یا غافل بن کر نہ رہ سکے کسی حال میں بھی وہ خدا کو نہ بھولے۔ تقویٰ کی نفسیات جس آدمی کے اندر پیدا ہو جائے وہ اپنا نگراں آپ بن جاتا ہے۔ وہ اپنا احتساب خود کرنے لگتا ہے، اس کا یہ یقین کہ موت کے بعد اس کو مالک کائنات کے سامنے حاضر ہونا ہے، اس کو مستقل طور پر چوکس نا کر دیتا ہے۔ وہ دنیا ہی میں اپنے آپ کو خدا کی عدالت میں کھڑا ہوا محسوس کرنے لگتا ہے، وہ قیامت سے پہلے قیامت کا تجربہ کر لیتا ہے۔ جو آدمی تقویٰ والا ہو، وہ اپنے قول و عمل سے یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ دیکھے بغیر خدا سے ڈرا، اس نے حساب کیے جانے سے پہلے اپنا حساب کیا۔ یہ صفت خدا کو اتنا زیادہ پسند ہے کہ جو آدمی اس صفت کا ثبوت دے، اس کے لیے خدا یہ فیصلہ کر دیتا ہے کہ اس کو میری ابدی نعمتوں کے باغ میں داخل کر دو جہاں اس کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ کوئی غم۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page