ربانی انسان
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
دو رُوحیں فالھمھا فجورھا و تقوھا۔ فتَد اللہ نے ہر نفس کو سمجھ دی، اس کی بدی کی اور اس کی نیکی اَفْلَحَ مَنْ زَکّھَا۔ وَ قَدْ خَابَ مَنْ کی_ وہ شخص کامیاب ہوا جس نے اس کو پاک کیا، اور وہ دَشْھَا۔ (الشمس) شخص نامراد ہوا جس نے اس کو آلودہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں امتحان کے لیے پیدا کیا ہے ۔ اس کے بعد ہر آدمی پر موت آتی ہے اور یہاں سے اٹھاکر وہ آخرت کے ابدی ٹھکانے میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ اس امتحان کی نوعیت یہ ہے کہ ہر آدمی کے لیے بیک وقت دو امکان کھول دیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنی روح کو وہ پاکیزہ روح بنائے جو جنت میں بسائے جانے کے قابل ہو، پھر اس کو جنت کی اعلیٰ اور نفیس دنیا میں یہ کہہ کر داخل کر دیا جائے کہ تم اس میں بسو اور ابدی راحتوں میں رہنے کی خوشی حاصل کرو۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ آدمی اپنی فطرت کے ربانی تقاضوں کو دبا کر اپنی روح کو گندہ کرلے۔ ایسا آدمی جنت کے ماحول میں رہنے کے لیے نااہل ٹھہرے گا۔ اس کو جہنم کی پُر عذاب دنیا میں دھکیل دیا جائے گا۔ زندگی میں بار بار دونوں قسم کے مواقع آتے ہیں۔ آدمی کے سامنے ایک سچائی ظاہر ہوتی ہے۔ اگر وہ کھلے دل سے اس کا اعتراف کرلے تو اس نے اپنی روح کو پاک کیا، اور اگر وہ جاننے کے بعد اس کو نظرانداز کرے تو اس نے اپنی روح کو گندا کیا۔ اس کے لیے حق کی ادائیگی کا ایک موقع پیش آتا ہے۔ اگر وہ حق کو اس کے حق دار کے حوالے کر دے تو اس نے اپنی روح کو پاک کیا، اور اگر وہ سرکشی کرے اور حق کو اس کے حق دار کے حوالے نہ کرے تو اس نے اپنی روح کو گندا کیا۔ اس کی تحویل میں کچھ اسباب و ذرائع دیے جاتے ہیں۔ اب اگر وہ ان اسباب و ذرائع کو خدائی تقاضوں کے مطابق استعمال کرے تو اس نے اپنی روح کو پاک کیا، اور اگر اس نے ان اسباب و ذرائع کو اپنی ذات کے تقاضوں کی تکمیل میں لگا دیا تو اس نے اپنی روح کو گندہ کر لیا۔ اسی طرح آدمی کے سامنے روزانہ وہ حالات آتے ہیں جب کہ اس کے لیے یہ موقع ہوتا ہے کہ یا تو ایک روش اختیار کر کے جنتی انسان بنے، یا دوسری روش اختیار کر کے جہنمی انسان بن جائے۔ جس شخص نے اپنے آپ کو جیسا بنایا ہے، اسی کے مطابق انجام اس کو آخرت میں ملے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader