Urdu book · الربَّانِيَّةُ

ربانی انسان

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

برف کی مانند سورہ العصر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ گزرتے ہوئے زمانہ کی قسم ، بلاشبہ انسان گھاٹے میں ہے ۔ (والعصران الانسان لفی خسر) اس کی تفسیر کرتے ہوئے امام الرازی نے لکھا ہے : عن بعض السلف، فهممت معنی السورة بعض سلف سے منقول ہے کہ میں نے سورہ عصر کا مفہوم ایک من بائع الثلج۔ كان يصيح ويقول: برف بیچنے والے سے سمجھا جو آواز لگا رہا تھا اور کہہ رہا تھا: ارحموا من يذوب رأس ماله، ارحموا اس آدمی پر رحم کرو جس کا سرمایہ پگھلا جا رہا ہے۔ اس آدمی من يذوب رأس ماله۔ فقلت هذا پر رحم کرو جس کا سرمایہ پگھلا جا رہا ہے۔ یہ سن کر میں نے کہا معنى ان الانسان لفی خسر۔ یمرّ یہ ہے مطلب انسان کے گھاٹے میں رہنے کا۔ آدمی پر زمانہ به العصر فيمضى عمره ولا يكتسب گزرتا ہے، اسی کے ساتھ اس کی عمر بھی گزر رہی ہے۔ اب جو فاذا هوخاسر ۔ شخص کسب نہیں کرتا وہ گھاٹے میں ہے۔ برف ایک ایسا اثاثہ ہے جو ہر وقت پگھلتا رہتا ہے، وہ پگھل پگھل کر کم ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ ختم ہو جاتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ برف کے دکان دار کی کامیابی یہ ہے کہ وہ برف کے پگھلنے سے پہلے اس کو بیچ ڈالے اور اپنے اثاثہ کو رقم کی صورت میں تبدیل کرلے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے گا تو بالآخر اس کا برف ختم ہو جائے گا اور اس کے پاس کچھ بھی باقی نہ رہے گا۔ برف کے دکان دار کو کامیابی تو اپنی کوششوں سے حاصل ہوگی۔ مگر ناکامی کے لیے اس کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ناکامی تو اپنے آپ اس کی طرف دوڑی چلی آرہی ہے۔ یہی معاملہ انسان کی زندگی کا بھی ہے۔ انسان کی عمر محدود ہے۔ وہ ہر روز گھٹتی رہتی ہے۔ آج اگر آپ کی عمر کے سو دن باقی تھے تو کل 99 دن باقی رہیں گے۔ پرسوں 98 دن ، نرسوں 97 دن ۔ اس طرح کم ہوتے ہوتے سارے دن ختم ہو جائیں گے۔ ایسی حالت میں کامیاب وہ ہے جو مستعدی دکھائے اور اپنی عمر کو وقت پورا ہونے سے پہلے استعمال کرلے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو عمر کی مدت گھٹتے گھٹتے ایک روز ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد وہ اس حال میں اس دنیا سے چلا جائے گا کہ اس نے اپنی زندگی سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا تھا۔ جو آدمی اپنی عمر سے عمل صالح نہ کمائے وہ برباد ہوگیا۔ وہ اس برف کی مانند ہے جو پگھلتا رہا اور گھٹتے گھٹتے ایک دن ختم ہوگیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page