ربانی انسان
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
عظیم رسوائی قرآن میں قیامت کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ جس دن حقیقت سے پردہ اٹھایا جائے گا اور لوگ سجدہ کے لیے بلائے جائیں گے تو وہ سجدہ نہ کر سکیں گے ۔ ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی۔ اور وہ سجدہ کے لیے بلائے جاتے تھے (مگر وہ سجدہ نہیں کرتے تھے حالانکہ وہ صحیح سالم تھے۔ پس چھوڑ دو مجھ کو اور ان کو جو اس کلام کو جھٹلا رہے ہیں، ہم ان کو آہستہ آہستہ لا رہے ہیں جہاں سے وہ نہیں جانتے (القلم ۴۲-۴۴) قیامت جب غیب کے پردہ کو پھاڑے گی تو اللہ اپنے عظمت و جلال کے ساتھ سامنے آجائے گا، اس وقت جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جائیں گے وہ نجات پائیں گے اور جنتوں میں داخل کیے جائیں گے، اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے نہیں جھکیں گے وہ عذاب کے مستحق قرار پائیں گے۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ قیامت میں اللہ کے سامنے صرف وہ لوگ جھک سکیں گے جو دنیا میں سچائی کے آگے جھکے ہوں۔ دنیا میں سچائی کا ظاہر ہونا اللہ کی بات کا ظاہر ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس طرح بالواسطہ انداز میں دیکھ رہا ہے کہ کون اس کے آگے جھکنے کے لیے تیار ہے اور کون اس کے آگے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔ بالواسطہ امتحان میں جو لوگ پورے اتریں وہی براہ راست امتحان میں کامیاب ہوں گے۔ سب سے بڑی نیکی اعتراف ہے، اور موجودہ دنیا میں اسی کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ موجودہ دنیا میں خدا براہ راست طور پر انسان کے سامنے نہیں ہے مگر انسان کو اس نے ایسی عقل اور سمجھ دے دی ہے جس سے وہ غیب کو جانے، جس سے وہ نہ دکھائی دینے والے خدا کو دیکھ لے۔ دنیا میں خدا نے کائنات کی صورت میں اپنا جلوہ دکھایا ہے۔ وہ سچائی کے ظہور کی صورت میں اپنی بات کا اعلان کرتا ہے۔ ان مواقع پر آدمی کو معرفت کا ثبوت دینا ہے، اس کو نشان حق میں خدا کو دیکھنا ہے اور کلام حق میں خدا کو سننا ہے۔ دنیا میں جب ایک شخص سچائی کا اعتراف نہیں کرتا تو وہ اپنے آپ کو سخت ترین خطرے میں ڈالتا ہے۔ یہ سادہ معنوں میں صرف ایک سچائی کو رد کرنا نہیں بلکہ خود خدا کو رد کرنا ہے۔ ایسے لوگ قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے جھکنے کی توفیق نہیں پائیں گے۔ اور بلاشبہ اس سے بڑی اور کوئی رسوائی نہیں کہ رب ذوالجلال ظاہر ہو کر سامنے آئے اور آدمی اس کے آگے جھک کر اس کی خدائی کا اعتراف کرنے سے عاجز ہو جائے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader