ربانی انسان
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
دو راستے فاما من اعطی واتقى۔ وصدق بالحسنى۔ فنيسره پس جس نے دیا، اور وہ ڈرا، اور اس نے بھلائی کو سچ مانا، تو اس لليسرى۔ واما من بخل واستغنى۔ وكذب بالحسنى۔ کو ہم آسان راستہ کے لیے سہولت دیں گے۔ اور جس نے بخل کیا، اور فنيسره للعسرى (الليل ۶ - ۱۰) بے پروا رہا، اور بھلائی کو جھٹلایا، تو اس کو ہم سخت راستہ کے لیے سہولت دیں گے۔ قرآن کی ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تین بنیادی خصوصیات ہیں جو اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہیں۔ اسی طرح دوسری تین خصوصیات ہیں جو اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں۔ تین پسندیدہ خصوصیات یہ ہیں : انسان کے مقابلہ میں دینے والا بننا۔ خدا کے مقابلہ میں ڈرنے والا بننا۔ حق کے مقابلہ میں اعتراف کرنے والا بننا۔ دوسری تین خصوصیات وہ ہیں جو خدا کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں۔ وہ تین خصوصیات یہ ہیں : انسان کے مقابلہ میں روگنے والا ہونا۔ خدا کے مقابلہ سرکشی کرنے والا ہونا۔ حق کے مقابلہ میں نہ ماننے والا ہونا۔ پہلی تین خصوصیات آدمی کے اندر رومنانہ نفسیات پیدا کرتی ہیں۔ وہ اپنے مزاج کے اعتبار سے ایسا انسان بن جاتا ہے جس کے لیے خدا کے راستہ پر چلنا آسان ہو جائے۔ اس کا سابقہ جب کسی انسان سے پیش آتا ہے تو اس کے لیے وہ خیر خواہ اور نفع بخش ثابت ہوتا ہے۔ جب خدا کا کوئی حکم اس کے سامنے آتا ہے تو اس کا احساس بندگی اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ فوراً اس کی تعمیل میں لگ جائے۔ اس کے سامنے جب کوئی حق پیش کیا جاتا ہے تو وہ کھلے دل کے ساتھ اس کو قبول کر لیتا ہے۔ وہ اسی طرح زندگی کے راستوں پر چلتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ جنت میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کے برعکس دوسری تین خصوصیات آدمی کے اندر غیر مومنانہ نفسیات پیدا کرتی ہیں۔ ایسے انسان کا مزاج ہمیشہ اس کو بدی کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ تواضع کے بجائے سرکشی، حق رسانی کے بجائے حق تلفی، انصاف کے بجائے ظلم اور اعتراف کے بجائے انکار کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ اسی طرح چلتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ جہنم میں پہنچ جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader