ربانی انسان
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
نفس مطمئن اللہ کے سچے بندے پر جب موت آتی ہے، اور وہ دنیا کی زندگی سے نکل کر آخرت کی زندگی میں داخل ہوتا ہے تو خدا کے فرشتے اس کا استقبال کرتے ہوئے کہتے ہیں : اے نفس مطمئن ، چل اپنے رب کی طرف ، تو اس سے راضی ، وہ تجھ سے راضی ۔ پھر شامل ہو میرے بندوں میں اور داخل ہو میری جنت میں (الفجر) حدیث میں آیا ہے کہ ایمان کا ذائقہ اس شخص کو ملتا ہے جو اللہ کو رب بنانے پر اور محمد کو پیغمبر ماننے پر اور اسلام کو دین کی حیثیت سے اختیار کرنے پر راضی ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا حدیث کی کتابوں میں آئی ہے ، اس کے الفاظ یہ ہیں : اللهم إني أسألك نفساً بك مطمئنة اے اللہ ، میں تجھ سے ایک ایسا نفس مانگتا ہوں جو تجھ پر تؤمن بلقائك وترضى بقضائك مطمئن ہو ، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو ، تیرے فیصلہ وتتقنع بعطائك پر راضی ہو اور تیرے دیے پر قانع ہو ۔ مذکورہ آیت میں نفس مطمئن (النفس المطمئنة) سے مراد وہ انسان ہے جو دنیا میں اس طرح رہا کہ وہ دوسرے معبودوں کو چھوڑ کر ایک اللہ کو معبود بنانے پر راضی تھا ، خواہ اس کے نتیجہ میں وہ لوگوں کی نظر میں بے قیمت ہو جائے ۔ وہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کو پکڑے رہا ، خواہ اس کی وجہ سے وہ اپنے ماحول کے اندر اجنبی بن گیا ہو ۔ اس نے خدا کے بے آمیز دین کو اختیار کیا ، خواہ اس کی بنا پر لوگوں کے درمیان غیر مقبول ہونے کی نوبت آجائے ۔ اس کو اس کے رب نے جو کچھ دیا اس پر اس نے شکر کیا ، اور جو کچھ اس کو نہیں ملا ، اس پر اس نے صبر کیا۔ یہی وہ انسان ہے جو اللہ کا مطلوب بندہ ہے ، اور یہی وہ انسان ہے جو موت کے بعد خدا کی اس جنت میں داخل ہو گا جہاں نہ کوئی غم ہے اور نہ کوئی خوف ۔ موجودہ دنیا میں اس بات کا امتحان ہے کہ آدمی خدا کے فیصلہ پر راضی ہے یا نہیں۔ خدا اپنی حکمت کے تحت موجودہ دنیا میں کسی کو ایک چیز دیتا ہے اور کسی کو دوسری چیز۔ یہاں امتحان میں پورا اترنا یہ ہے کہ آدمی خدا کے دیے پر راضی رہے۔ موجودہ دنیا میں جو لوگ خدا کی پسند پر راضی رہیں ، وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں اپنی پسند کی زندگی سے سرفراز کیے جائیں گے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader