Urdu book · الربَّانِيَّةُ

ربانی انسان

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

ان شاء الله قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کچھ بھائیوں کا ایک باغ تھا۔ باغ کے پھل تیار ہوئے تو انھوں نے کہا کہ کل ہم ضرور اپنے باغ کا پھل توڑیں گے۔ لیکن اگلے دن صبح کو وہ باغ میں پہنچے تو ایک خدائی آفت باغ کی پوری فصل کو تباہ کر چکی تھی۔ ان کی اس محرومی کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے جب باغ کا پھل توڑنے کا ارادہ ظاہر کیا تو اس کے ساتھ انشاء اللہ نہ کہا ۔ (القلم ۱۸) انشا اللہ (اگر اللہ نے چاہا) ایک عظیم مومنانہ کلمہ ہے۔ اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ آدمی جب بھی کوئی کام کرنا چاہے تو اس کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے وہ انشاء اللہ کے الفاظ بھی ضرور اپنی زبان سے ادا کرے۔ یہ کلمہ گویا اس حقیقتِ واقعہ کا اعتراف ہے کہ اس دنیا میں اصل کارساز اللہ ہے۔ وہی تمام کام بنانے والا ہے۔ اس دنیا میں میری چاہ صرف اس وقت پوری ہوگی جب کہ اللہ کی چاہ بھی اس میں شامل ہو جائے۔ انشا اللہ کہنا اپنے چاہنے میں اللہ کے چاہنے کو ملانا ہے، یہ اپنے ارادے کے ساتھ اللہ کے ارادے کو شامل کر لینا ہے۔ اس دنیا میں تمام اختیارات صرف اللہ کو حاصل ہیں۔ وہ بے شمار چیزیں جن کو استعمال کر کے آدمی اپنا کام بناتا ہے، وہ سب کی سب اللہ کے حکم کے تحت عمل کرتی ہیں۔ انسان کے اختیار میں صرف چاہنا ہے، بقیہ سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے۔ آدمی جب خدا کی اس قدرت کو اور اس کے مقابلہ میں اپنے عجز کو سوچتا ہے تو اس وقت اس کا احساس جن الفاظ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے وہ یہی انشا اللہ کے الفاظ ہیں۔ اس طرح وہ اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے کہ میں صرف کوشش کا آغاز کر سکتا ہوں ۔ مگر اس کو تکمیل تک پہنچانا مکمل طور پر خدا کے اختیار میں ہے ، وہ میرے اختیار کی چیز نہیں ۔ انشا اللہ کا کلمہ حقیقت کے اعتبار سے ایک دعا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنا کام شروع کرتے ہوئے اپنے رب سے یہ درخواست کرتا ہے کہ وہ میرے ارادہ کو اپنی توفیق اور تائید سے پورا کر دے ۔ انشا اللہ کہنا گویا زندگی کے سفر میں مالک کائنات کو اپنے ساتھ لینا ہے ۔ اور جس آدمی کا حال یہ ہو کہ خود مالک کائنات اس کا ہم سفر ہو جائے ، اس کو منزل تک پہنچنے سے کون روک سکتا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page