ربانی انسان
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
جزاک اللہ اسلام کے طریقوں میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی کو جب دوسرے شخص سے کوئی فائدہ پہونچے یا اس کو کوئی عطیہ ملے تو وہ دینے والے کے حق میں جزاک اللہ خیر الجزاء کا کلمہ کہے ۔ یعنی اللہ تم کو بہترین بدلہ عطا کرے ۔ یہ ایک اعلیٰ انسانی جذبہ ہے کہ آدمی کے ساتھ جب کوئی احسان کیا جائے تو وہ اس کے احسان کا اعتراف کرے ۔ جب اس کو کسی سے فائدہ پہونچے تو وہ یہ اعلان کرے کہ یہ فائدہ اس کو فلاں شخص کے ذریعہ حاصل ہوا ہے ۔ اس اعتراف کی سب سے بہتر اور کامل صورت اس کے لیے جزاک اللہ کا کلمہ کہنا ہے ۔ اس کلمہ کے ذریعہ آدمی مزید یہ اعتراف کرتا ہے کہ بدلہ دینے کا حقیقی اختیار صرف خدا کو ہے ۔ وہ خدا سے دعا کرتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ خدایا ، تو اس کی مدد فرما جس طرح اس نے میری مدد کی ، تو مزید اضافہ کے ساتھ اس کو وہ چیز عطا فرما جو اس نے مجھے عطا کی ہے ۔ جزاک اللہ کا کلمہ انسانی آبادی میں بیک وقت دو قسم کی روح کو ابھارتا ہے اور اس کو زندہ رکھتا ہے ۔ ایک ، اعتراف کی روح ۔ اور دوسرے ، لینے کے ساتھ دینے کی روح ۔ یہ دنیا اعتراف اور بے اعترافی کا امتحان ہے ۔ یہاں بار بار ایسے حالات پیش آتے ہیں کہ آدمی کے لیے یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ اعتراف کرکے اپنی انسانیت کو اونچا کرلے یا بے اعترافی کی روش اختیار کرکے پستی کے گڑھے میں جاگرے ۔ جزاک اللہ کا کلمہ آدمی کے اندر اعتراف کی روح کو بیدار کرنے میں مدد دیتا ہے ۔ اسی کے ساتھ یہ کلمہ آدمی کے اندر یہ روح جگاتا ہے کہ وہ دوسروں سے لینے کے ساتھ دوسروں کو دینے والا بنے ۔ جس سے اس کو نفع پہونچا ہے ، اس کو وہ خود کبھی نفع پہونچائے ۔ دینے والے کے عطیہ کا اس کو اتنا زیادہ احساس ہو کہ اس کے حق میں اس کے دل سے بہترین دعائیں نکلنے لگیں ۔ ایک حقیقی دعا سب سے بڑا عطیہ ہے جو کوئی شخص کسی کو دے سکتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader