ربانی انسان
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
السلام علیکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے لوگو، تم لوگ آپس میں سلام کو پھیلاؤ (یا ایھا الناس افشوا السلام علیکم) اسلام میں زندگی کے جو آداب بتائے گئے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب بھی دو آدمی کا سامنا ہو یا دو آدمی آپس میں ملاقات کریں تو ایک شخص کہے السّلام علیکم (تمہارے اوپر سلامتی ہو) اس کے بعد دوسرا شخص جواب میں کہے وعلیکم السّلام (تمہارے اوپر بھی سلامتی ہو) سلام کا یہ کلمہ ایک قسم کی دعا ہے۔ ایک مومن دوسرے مومن کا خیر خواہ ہوتا ہے ۔ اس کے دل میں ہر آن دوسرے انسانوں کے لیے نیک جذبہ موجود ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ اپنی تنہائیوں میں دوسرے انسانوں کے لیے نیک دعائیں کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ جب وہ دوسرے کسی شخص سے ملتا ہے تو اس کا یہ اندرونی جذبہ بے ساختہ طور پر اس کلمہ کی صورت میں نکل پڑتا ہے کہ السّلام علیکم (تمہارے اوپر سلامتی ہو، خدا تمہیں اپنی رحمتوں سے نوازے) السَّلامُ علیکم اس عمومی زندگی کا ایک اظہار ہے جو ایک شخص کی اپنے سماج کے اندر ہونی چاہیے ۔ اس دنیا میں ہر شخص کو اس طرح زندگی گزارنا ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کا بھلا چاہنے والا ہو۔ وہ تمام انسانوں کو امن اور سلامتی کی حالت میں دیکھنا چاہتا ہو ۔ ایک شخص جب دوسرے شخص سے کہتا ہے کہ السَّلامُ علیکم تو دوسرے سے گویا وہ اپنی اس حیثیت کا تعارف کراتا ہے کہ میں تمہارے لیے کیا ہوں ۔ میں تم کو سلامتی کی حالت میں دیکھنا چاہتا ہوں ۔ تمہاری سلامتی کو گزند پہنچنا مجھے گوارا نہیں ۔ السلام علیکم کہہ کر آدمی اپنے آپ کو اس کا پابند بناتا ہے کہ دوسروں کو اس سے سلامتی کے سوا کسی اور سلوک کا تجربہ نہ ہو، اس کا وجود دوسروں کے لیے ہر حال میں سلامتی اور رحمت کا ذریعہ بنا رہے۔ السّلام علیکم کہنا کوئی رسمی کلمہ دہرانا نہیں، وہ با اصول زندگی گزارنے کا ایک مقدس عہد ہے ۔ السّلام علیکم کہنے والا اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں اس کا سلوک دوسروں کے ساتھ کیسا ہو گا۔ وہ ہر حال میں "السَّلام علیکم" کے کلمہ کے تابع ہوگا۔ وہ سلامتی اور خیر خواہی کا ہو گا نہ کہ ایسی اور بد خواہی کا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader