Urdu book · الربَّانِيَّةُ

ربانی انسان

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

سواری کے وقت قرآن میں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا ذکر ہے کہ اُس نے انسان کے لیے کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر وہ سواری کرتا ہے اور ان پر بیٹھ کر بہ آسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں تعلیم دی گئی ہے کہ تم جب ان سواریوں پر بیٹھو تو اللہ کے انعام کو یاد کرو اور اس طرح کہو: سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ (پاک ہے وہ جس نے ان چیزوں کو ہمارے بس میں کر دیا، اور ہم ایسے نہ تھے کہ ان کو قابو میں لاتے ۔ اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں)، الزخرف - ۱۳ - ۱۴ انسان کے اوپر اللہ تعالیٰ کے جوبے شمار انعامات ہیں ان میں سے ایک انعام وہ ہے جس کو سواری کہا جاتا ہے۔ انسان کو اپنی مختلف ضروریات کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنا پڑتا ہے۔ آدمی اپنے پیروں پر چل کر زیادہ دور تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے مدد کی ۔ اور کچھ چیزوں کو اس طرح مطیع بنا دیا کہ وہ انسان کے لیے سواری کا کام دے سکیں۔ ابتدائی طور پر انسان کے پاس گھوڑوں اور چوپایوں کا ذریعہ تھا۔ پھر انسان نے سمندر کے امکانات کو استعمال کیا اور بحری کشتیوں کے ذریعہ سفر کرنے لگا۔ مزید تحقیق کے بعد انسان نے جونکہ اللہ تعالیٰ نے مادہ میں ایسی خصوصیات رکھ دی ہیں کہ وہ اس کے لیے تیز رفتار سواری کی صورت میں ڈھل سکیں ۔ اس طرح موٹر کار اور ہوائی جہاز جیسی مشینی سواریاں وجود میں آئیں۔ انسان بڑی اور بحری سفروں سے آگے بڑھ کر فضائی بلندیوں میں تیز رفتار سفر کرنے لگا۔ گھوڑے سے لے کر ہوائی جہاز تک تمام سواریاں خدا کی نعمتیں ہیں۔ وہ خدائی تسخیر کی بنا پر ممکن ہوئی ہیں۔ وہ انسان کے اوپر براہ راست خدا کا عطیہ ہیں ۔ آدمی جب چیزوں کی اس حیثیت کا ادراک کرتا ہے تو وہ بے تابا نہ پکار اٹھتا ہے کہ خدا یا ، تو ہی ہے جس نے ان چیزوں کو ہمارے لیے مسخر کر دیا، ورنہ ہمارے لیے ممکن نہ تھا کہ اس طرح ہم ان کو اپنا خادم بنا سکیں ۔ شکر کرنے والے کے لیے دنیا میں بھی نعمت ہے اور آخرت میں بھی نعمت ۔ اور ناشکروں کے لیے دنیا میں وقتی نعمت ہے اور آخرت میں ابدی عذاب ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page