ربانی انسان
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
اِنَّا لِلّٰہِ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم ضرور انسانوں کو آزمائیں گے ، ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ ایسی حالت میں جو لوگ صبر کریں ان کے لیے خوش خبری ہے۔ جن کا حال یہ ہے کہ ان پر جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ)۔ موجودہ دنیا کو اللہ نے آزمائش کے لیے بنایا ہے۔ یہاں پانا اور کھونا دونوں آزمائش کے لیے ہوتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ اس کو کچھ ملے تو وہ شکر کا ثبوت دے۔ اور اگر وہ کھوئے تو وہ صبر کا رویہ اختیار کرے۔ جو شخص ایسا کرے وہی وہ شخص ہے جو آزمائش میں پورا اترا۔ اس دنیا میں لازماً ایسا ہوگا کہ آدمی کے ساتھ ناخوش گوار تجربے پیش آئیں گے۔ کبھی اس پر ڈر کے لمحات آئیں گے۔ کبھی وہ بھوک اور پیاس کی تکلیف سے دوچار ہوگا۔ کبھی ایسا ہوگا کہ جان و مال کی صورت میں اس کو جو کچھ حاصل ہے ۔ اور اس کو جو فائدے مل رہے ہیں ، ان میں سے کسی چیز کو وہ جزئی یا کلی طور پر کھودے گا۔ کبھی اس کے دوست یا عزیز کی موت واقع ہو جائے گی۔ ان تمام مواقع پر اس کی زبان سے جو کلمہ نکلنا چاہیے وہ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کا کلمہ ہے۔ اس کلمہ کے ذریعہ آدمی خدا کے مقابلہ میں اپنی عبدیت کا اعتراف کرتا ہے۔ وہ اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ خدا لایا ، دینے والا توہی تھا۔ اگر تو نے اپنے دیئے میں سے کسی چیز کو لے لیا تو تجھ کو حق تھا کہ تو اس چیز کو مجھ سے لے لے۔ اِنَّا لِلّٰہِ کہنا ایک عبادتی عمل ہے۔ یہ کلمہ شکایت کے حالات میں کلمہ اعتراف پیش کرنا ہے۔ یہ بے صبری کے موقع پر صبر کا ثبوت دینا ہے۔ یہ اپنے کھو نے کو ایک نئی یافت میں بدلنا ہے۔ یہ ایک انسانی واقعہ سے ربانی خوراک حاصل کرنا ہے۔ یہ ایک دنیوی تجربہ کو آخرت کے تجربہ میں تبدیل کر لینا ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ راجعون کا کلمہ بندے کی طرف سے خدا کی خدائی کا اعتراف ہے۔ یہ خدا کے مقام بلند کا اقرار کرتے ہوئے اپنے آپ کو عبد کے مقام پر بیٹھا لینا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader