ربانی انسان
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
کھانے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے زندگی کے جو آداب بتائے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی کھانا کھانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد کرے۔ وہ کہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنِیْ وَسَقَانِیْ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ (اللہ کے لیے شکر اور تعریف ہے جس نے مجھے کھانا کھلایا، جس نے مجھے پانی پلایا اور جس نے مجھے اسلام والوں میں سے بنایا) انسان کھانا اور پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ یہ چیزیں اس کو ساری عمر تک مسلسل درکار ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی اس ضرورت کو انتہائی کامل انداز میں پورا فرمایا ہے۔ زمین پر ایک طرف بہت بڑی مقدار میں پانی مہیا کر دیا ہے۔ دوسری طرف اس کا انتظام کر دیا ہے کہ آدمی معمولی محنت سے ہر قسم کی غذائیں اپنے لیے تیار کرلے۔ اسی اعلیٰ انتظام کی بنا پر یہ ممکن ہوا ہے کہ زمین کے ہر حصہ میں آدمی کسی رکاوٹ کے بغیر پانی اور خوراک حاصل کر کے کامیاب زندگی گزار رہا ہے۔ ایک مومن جب بھوک کے وقت کھانا کھاتا ہے اور پیاس کے وقت پانی پیتا ہے تو اس کا پورا وجود اس احساس میں ڈھل جاتا ہے کہ کیسا عظیم ہے وہ خدا جس نے میرے لیے یہ قیمتی انتظام کیا۔ اگر یہ انتظام نہ ہوتا تو میں بھوک اور پیاس سے تڑپتا رہتا۔ مجھے نہ کہیں کھانا ملتا جس سے میں اپنی بھوک مٹاؤں اور نہ مجھے پانی ملتا جس سے میں اپنی پیاس بجھاؤں۔ اس کی روح کا یہ اعتراف اس کی زبان پر حمد کے کلمات کی صورت میں جاری ہو جاتا ہے۔ جسمانی غذا پا کر مومن کو مزید یاد آ جاتا ہے کہ اسی طرح خدا نے میرے لیے روحانی غذا کا بھی کامل انتظام فرمایا ہے۔ وحی و الہام کے ذریعہ اس نے اپنی مرضی کا علم اتارا اور اس کو ممکن بنایا کہ میں اس علم کے مطابق زندگی گزار کر اپنے لیے ابدی کامیابی کا استحقاق پیدا کر سکوں۔ یہ یاد اس کے شکر اور حمد کے احساس میں مزید اضافہ کر دیتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ہر لمحہ اپنے اس رب کی حمد کرتا رہے جس نے اس کے رزقِ جسمانی کا بھی اعلیٰ انتظام کیا ہے اور رزقِ روحانی کا بھی اعلیٰ انتظام۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader