Urdu book · الربَّانِيَّةُ

ربانی انسان

Urdu book, p. 64

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ سے پناہ مانگنا شیطان آدمی کا دشمن ہے۔ وہ برابر اس کوشش میں رہتا ہے کہ آدمی کو بہکا کر حق کے راستے سے ہٹادے اور اس کو ناحق کے راستے پر ڈال دے۔ شیطان کے فتنے سے بچنے کا طریقہ اسلام میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب بھی آدمی کے ذہن میں کوئی شیطانی وسوسہ آئے تو وہ فوراً کہے : اعوذ بالله من الشيطان الرجيم ، اللهم اني اعوذ بك من همزات الشياطين (ملعون شیطان سے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ، خدایا تو مجھے شیطانوں کے بہکاوے سے بچا) دنیا کی زندگی میں آدمی کو مختلف قسم کے تجربات پیش آتے ہیں۔ انھیں تجربات کے دوران شیطان آدمی کو بہکاتا ہے۔ وہ آدمی کی سوچ کو صحیح رخ سے ہٹا کر غلط رخ پر ڈال دینا چاہتا ہے۔ کبھی وہ آدمی کے اندر فخر کا جذبہ ابھارتا ہے۔ کبھی اس کو سرکشی پر آمادہ کرتا ہے۔ کبھی اس کے اندر غصہ کی آگ بھڑکاتا ہے۔ اسی طرح مختلف مواقع پر وہ آدمی کے اندر حسد، بغض ، کینہ، انتقام بے انصافی، خیانت، بے اعترافی، انانیت جیسے جذبات ابھار کر یہ کوشش کرتا ہے کہ آدمی کو جنت کے راستے سے ہٹائے اور اس کو دوزخ کے راستے پر ڈال دے۔ شیطان کے مقابلہ میں آدمی کمزور ہے۔ مگر اللہ کی مدد سے وہ اس پر فتح حاصل کر لیتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ ہر وقت وہ شیطان کی طرف سے چوکنار ہے۔ جیسے ہی شیطان اس کے ذہن میں کوئی برا خیال ڈالے، وہ فوراً تعوذ کے کلمات ادا کر کے خدا سے پناہ مانگنے لگے۔ آدمی اگر ایسا کرے تو اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اس کی مدد کرے گا۔ وہ شیطان کے مقابلہ میں آدمی کا قلعہ بن جائے گا۔ آدمی جب شیطان کے وسوسہ کا اثر قبول نہیں کرتا، وہ شیطان کے مقابلہ میں اللہ کی پناہ کا طالب بن جاتا ہے تو اللہ نہ صرف اس کو شیطان کے فتنے سے بچاتا ہے بلکہ اصل کو مزید نیکی کی توفیق دے کر اس کے ایمان کو اور زیادہ طاقت ور بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے راستہ کو اس کے لیے اور زیادہ روشن کر دیتا ہے۔ گمراہی کے فتنوں سے اللہ کی پناہ چاہنا گویا اپنی عبدیت کا اقرار اور خدا کی قدرت کا اعتراف ہے۔ یہ اقرار و اعتراف بلاشبہ سب سے بڑا عمل ہے ، اس سے بڑا عمل اور کوئی نہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page