اسلامی اخلاق
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
تواضع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے میرے اوپر وحی کی ہے کہ تم لوگ آپس میں تواضع اختیار کرو۔ کوئی شخص کسی کے اوپر فخر نہ کرے، کوئی شخص کسی کے اوپر سرکشی نہ کرے (ان الله أوحى الح أن تواضعوا حتى لا يفخر أحد على أحد ولا يبغى أحد على أحد) رواه مسلم تمام انسان اللہ کے بندے ہیں۔ تمام انسان اللہ کے مقابلہ میں عاجز مخلوق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس اعتبار سے تمام انسانوں کے لیے ایک ہی صحیح رویہ ہے۔ یہ کہ وہ اللہ کی بڑائی کو مانتے ہوئے اس کے مقابلہ میں اپنے آپ کو چھوٹا بنا لیں۔ یہی وہ چیز ہے جس کو عبدیت کہا جاتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں آدمی کو عارضی طور پر آزادی دے دی گئی ہے کہ وہ جو چاہے کرے ۔ وہ حقیقت واقعہ کا اعتراف کرتے ہوئے عجز کی روش کو اختیار کر لے ، یا اس سے انحراف کرکے سرکش اور متکبر بن جائے ۔ جو شخص اس آزمائش میں پورا اترے گا ، اس کے لیے جنت ہے اور جو شخص اس آزمائش میں ناکام رہے اس کے لیے جہنم۔ اس آزمائش کا سب سے بڑا میدان وہ ہے جو انسانی تعلقات کے دوران میں پیش آتا ہے جب ایک شخص کا سابقہ دوسرے شخص سے پڑتا ہے تو بظاہر وہ اس کو محض ایک آدمی دکھائی دیتا ہے۔ اب جس شخص کے اندر عبدیت کی نفسیات پیدا ہو چکی ہو ، اس کی اندرونی نفسیات اس کو مجبور کرے گی کی وہ ایسے موقع پر تواضع کا انداز اختیار کرے۔ اس کے برعکس جو شخص عبدیت کی نفسیات سے خالی ہو وہ ایسے موقع پر سرکش بن جائے گا، وہ فخر اور تکبر کا انداز اختیار کرلے گا۔ خدا پرست انسان بندوں کے معاملہ میں متواضع انسان ہوتا ہے۔ خدا کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ چھوڑنا اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ بندوں کے مقابلہ میں بھی سرکشی کا رویہ اختیار نہ کرے۔ ایسا انسان، عین اپنی نفسیات کے تحت، ہر معاملہ کو خدا کا معاملہ سمجھتا ہے نہ کہ محض اپنے جیسے کسی آدمی کا معاملہ۔ تواضع دراصل حقیقت پسندانہ زندگی کا دوسرا نام ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کی جو واقعی حیثیت ہے اس کے اعتبار سے واحد درست رویہ انسان کے لیے یہی ہے کہ وہ تواضع کا انداز اختیار کرے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader