اسلامی اخلاق
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
سچ بولنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پر لازم ہے کہ تم سچ بولو۔ کیوں کہ سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی آدمی کو جنت میں پہنچاتی ہے۔ اور تم پر لازم ہے کہ تم جھوٹ سے بچو۔ کیوں کہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی آدمی کو آگ میں پہنچاتی ہے (عليكم بالصدق فإن الصدق يهدى الى البروإن البر يهدى الى الجنة۔ واياكم والكذب فان الكذب يهدى الى الفجور وإن الفجور يهدى الى النار) ابوداؤد، الترنذى ایمان دراصل حقیقت واقعہ کا اعتراف ہے۔ ایک شخص جب خدا اور رسول پر ایمان لاتا ہے تو گویا وہ سب سے بڑی حقیقت کا اعتراف کرتا ہے۔ ایسا انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے سچا انسان ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ سچ بولتا ہے۔ وہ کبھی کسی معاملہ میں جھوٹ بات نہیں کہتا۔ سچ نیکیوں کا سرچشمہ ہے۔ جو آدمی سچ بولے، اس کی زبان اور اس کا ضمیر دونوں ہمیشہ ایک رہیں گے۔ وہ مصنوعی کلام سے بچا رہے گا۔ جو اس کے دل میں ہوگا وہی اس کی زبان پر ہوگا۔ اس کی روح ہمیشہ مطمئن رہے گی، کیوں کہ وہ تضادات سے خالی ہوگی۔ جو شخص قول میں سچا ہو اس کا عمل بھی سچائی میں ڈھلتا چلا جاتا ہے۔ سچا کلام اس کی زندگی کی رہنمائی ایسے راستہ کی طرف کرتا ہے جو بالآخر اس کو جنت میں پہنچانے والا ہو۔ ایسے آدمی کے اندر فطری طور پر یہ ذوق پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ وہی کہے جو حقیقتِ واقعہ کے مطابق اسے کہنا چاہیے اور وہی کرے جو حقیقتِ واقعہ کے مطابق اسے کرنا چاہیے ۔ جھوٹ کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ جھوٹ بولنے والا ایسی بات کہتا ہے جو واقعہ کے مطابق نہیں ہوتی۔ اس کی روح تضادات کا مجموعہ بن جاتا ہے۔ جب وہ جھوٹ بولتا ہے تو وہ خود اپنے علم اور اپنے احساس کی تردید کر رہا ہوتا ہے۔ ایسا انسان خود ہی اپنے آپ کو بے قیمت کر لیتا ہے ۔ وہ اپنے خلاف آپ گواہ بن جاتا ہے۔ ایسے شخص کے اوپر ہدایت کا راستہ بھی بند ہو جاتا ہے اور جنت کا راستہ بھی بند۔ سچ تمام نیکیوں کا دروازہ ہے اور جھوٹ تمام برائیوں کا دروازہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader