اسلامی اخلاق
Urdu book, p. 72
By Maulana Wahiduddin Khan
قناعت حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے فلاح پائی جس نے اسلام کو اختیار کیا۔ اور اس کو بقدر ضرورت رزق ملا اور اس کو اللہ نے جو کچھ دیا اس پر اس نے قناعت کیا (قد افلح من اسلم ورزق کفافا وقنعه الله بما آته) رواہ مسلم اس دنیا میں آدمی بیک وقت دو تقاضوں کے درمیان ہے۔ ایک طرف اس کے لیے معاشی ضرورتوں کی فراہمی کا مسئلہ ہے۔ دوسری طرف اس کو وہ عمل کرنا ہے جو آخرت میں اس کے کام آئے۔ آدمی کے لیے ناممکن ہے کہ وہ دونوں تقاضوں پر یکساں حیثیت سے زور دے۔ ایک کی طرف زیادہ متوجہ ہونا ہمیشہ اس قیمت پر ہوگا کہ دوسری طرف سے اس کی توجہ ہٹ جائے۔ ایسی حالت میں عقل مندی یہ ہے کہ آدمی آخرت کے لیے زیادہ سے زیادہ عمل کرے اور دنیا کے معاملے میں بقدر ضرورت فراہمی پر اکتفا کرے۔ اسی کا نام قناعت ہے۔ مومن آخرت کے معاملے میں عدم قناعت کا رویہ اختیار کرتا ہے اور دنیا کے معاملے میں قناعت کا۔ مومن آخرت میں ملنے والی خدائی نعمتوں کا حریص ہوتا ہے۔ آخرت کے معاملے میں حرص کی حد تک اس کا بڑھا ہوا جذبہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ دنیا کی چیزوں میں کم پر راضی ہو جائے، تاکہ وہ آخرت کے حصول کے لیے زیادہ سے زیادہ محنت کر سکے۔ قناعت اس دنیا میں مومنانہ زندگی کی لازمی شرط ہے۔ قناعت پر راضی نہ ہونے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آدمی اسی چیز کو سب سے زیادہ کھو دیتا ہے جس کو وہ سب سے زیادہ پانا چاہتا ہے۔ ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کو عافیت کی زندگی حاصل ہو۔ غیر قانع آدمی موجودہ دنیا میں چند دن کے لیے عافیت کی زندگی حاصل کر سکتا ہے۔ مگر اس کی یہ بھاری قیمت دینی پڑے گی کہ موت کے بعد آنے والے مرحلہ میں وہ ابدی طور پر عافیت کی زندگی سے محروم ہو جائے گا۔ جو شخص قناعت نہ کرے وہ شکر کرنے والا بھی نہیں بنے گا۔ اس دنیا میں کسی کو سب کچھ نہیں مل سکتا۔ یہاں ہر آدمی کو صرف کچھ دیا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں شکر خداوندی کا جذبہ اسی دل کے اندر امنڈ سکتا ہے جو کچھ راضی ہو جائے۔ غیر قانع انسان صرف شاکی بنتا ہے نہ کہ شاکر۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader