Urdu book · الربَّانِيَّةُ

اسلامی اخلاق

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

وعدہ پورا کرنا قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ اے لوگو، اپنے عہد کو پورا کرو، بے شک تم سے عہد کے بارہ میں پوچھ ہوگی (واوفوا بالعهد ان العهد كان مسئولا) الاسراء ۳۴ ایک شخص جب دوسرے سے کوئی عہد کرتا ہے تو گویا وہ دوسرے سے اپنا تعارف کراتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ میں تمہارے لیے کیا ثابت ہوں گا۔ ایسی حالت میں اگر وہ اپنے عہد کو پورا نہ کرے تو اس نے خود اپنے آپ کو باطل ثابت کیا۔ اس نے وعدہ خلافی کر کے خود اپنی حیثیت کی نفی کر دی۔ عہد کرنے کے بعد اسے پورا کرنا اعلیٰ ترین انسانیت ہے۔ یہ انسانی کردار کی نہایت اہم صفت ہے۔ جو آدمی ایک عہد کرے اور جب پورا کرنے کا وقت آئے تو وہ اس کو پورا نہ کرے، ایسا آدمی بالکل بے قیمت ہے، بندوں کے نزدیک بھی اور خدا کے نزدیک بھی۔ "عہد اللہ کے نزدیک قابلِ پرسش ہے" قرآن کے یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب دو آدمیوں کے درمیان عہد و پیمان کا معاملہ ہو تو یہ صرف دو انسانوں کا باہمی معاملہ نہیں ہوتا، اس میں خدا بھی تیسرے فریق کی حیثیت سے شریک ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں عہد کو توڑنا صرف ایک انسان سے کئے ہوئے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں ہے، بلکہ وہ براہِ راست خدا کے ساتھ سرکشی ہے۔ وہ خدا کے مقابلہ میں جسارت کا مظاہرہ ہے۔ پھر جو شخص خدا کے مقابلہ میں جسارت کرے، اس کو زمین و آسمان کے اندر کون بچا سکتا ہے۔ حدیث میں اس کو منافق کی پہچان بتایا گیا ہے کہ آدمی وعدہ کر کے اس کو پورا نہ کرے (إذا وعد اخلف، واذا عاهد غدر) وعدہ پورا نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی اصولی معاملہ میں حساس نہیں۔ اس کے نزدیک اصول کی پابندی کرنا اور اصول کو نظر انداز کر دینا دونوں یکساں ہیں۔ ایسا شخص یقینی طور پر منافق ہے۔ کیوں کہ حساسیت ایمان کی پہچان ہے اور بے حسی منافقت کی پہچان۔ مومن ایک با اصول انسان ہوتا ہے۔ اس کا عمل اصولوں کا پابند ہوتا ہے نہ کہ مفادات کا پابند۔ اور جو آدمی با اصول ہو وہ کبھی ایسا نہیں کر سکتا کہ وعدہ کرنے کے بعد اس سے پھر جائے ۔ وعدہ سے پھر جانا بے اصول انسانوں کا طریقہ ہے اور وعدہ پورا کرنا اصول انسانوں کا طریقہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page