اسلامی اخلاق
Urdu book, p. 74
By Maulana Wahiduddin Khan
امانت داری قرآن میں ہے کہ اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں کو ادا کرو (النسا ۲۸) حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ أدّ الأمانة إلى من ائتمنك ولا تخن من خانك (جو شخص تم کو امین بنائے اس کی امانت اس کو ادا کرو اور جو شخص تمہارے ساتھ خیانت کرے ، اس کے ساتھ تم خیانت نہ کرو) ایک شخص کے پاس دوسرے شخص کی امانت ہو، خواہ وہ مال کی صورت میں ہو یا اور کسی صورت میں، تو اس کو حق دار کی طرف لوٹانا فرض ہے۔ امانت کی چیز امانت داری نہیں ہوتی بلکہ حق دار کی ہوتی ہے۔ اور جو چیز جس شخص کی ہو، وہی اس کا حق رکھتا ہے کہ اس چیز کو اس کی طرف لوٹا دیا جائے۔ اس دنیا میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کو دوسرے آدمی سے جائز یا ناجائز شکایت ہو جاتی ہے۔ ایک آدمی کا خیال دوسرے کے بارہ میں یہ ہو جاتا ہے کہ اس نے میرے ساتھ خیانت کا معاملہ کیا ہے۔ اس لیے اس دنیا میں وہی شخص امانت دار بن سکتا ہے جو دوسروں کے رویہ کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی امانتیں انہیں لوٹائے۔ جو شکایت اور اختلاف سے اوپر اٹھ کر دوسروں کو ان کے حقوق ادا کرے۔ امانت کے معاملہ میں اپنے کو مالک سمجھنے کے بجائے امین سمجھنا اور اس کو ہر حال میں صاحب حق کو ادا کرنا صرف دوسرے کا معاملہ نہیں بلکہ خود اپنا معاملہ بھی ہے۔ جو آدمی اس طرح عمل کرے ، وہ اس عمل کے ذریعہ اپنے ایمان کو زندہ کرتا ہے، وہ اپنی شخصیت کو اونچا اٹھاتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا کہ خائن شخص کے ساتھ بھی امانت داری کا معاملہ کرو۔ جو آدمی کسی چیز کو عذر بنا کر امانت کی ادائیگی سے رک جائے ، وہ خود اپنے آپ کو پست کر لے گا، وہ اخلاقی بلندی کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا۔ امانت کو کسی کسی کے بغیر اس کے مالک تک پہنچانا، یہ بلاشبہ ایک اعلیٰ ترین نیکی ہے۔ یہ ایمان کے لازمی شرائط میں داخل ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں امانت کی ادائیگی کے امتحان میں وہی شخص کامیاب ہو سکتا ہے جو دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر سوچ سکے۔ جس کے اندر یہ مزاج ہو کہ امانت کی ادائیگی کے معاملہ میں مجھے ہر حال میں اپنی ذمہ داری کو ادا کرنا ہے۔ فریق ثانی کی طرف سے خیانت کا تجربہ ہو تب بھی مجھے اپنے آپ کو امانت داری پر قائم رکھنا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader