Urdu book · الربَّانِيَّةُ

اسلامی اخلاق

Urdu book, p. 75

By Maulana Wahiduddin Khan

نفع بخشی عن أبی موسى عن النبي صلى الله علیہ وسلم ابو موسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : علیٰ کل مسلم صدقة۔ قال ارأیتُ نے فرمایا۔ ہر مسلمان پر صدقہ ہے۔ پوچھا کہ اگر اس کے إن لم یجد۔ قال یعملُ بیدیدِ فینفعُ فرمایا کہ اپنے ہاتھ سے کام کرے اور پھر اپنے نفسہ ویتصدقُ۔ قال ارأیتُ ان لم یستطِع۔ کو فائدہ پہنچائے اور صدقہ بھی کرے۔ پوچھا کہ اگر وہ اس قال یُعینُ ذا الحاجةِ الملهوف۔ قال کی استطاعت نہ رکھتا ہو۔ فرمایا کہ حاجت مند بیکس کی ارأیتُ إن لم یستطع۔ قال یأمرُ مدد کرے۔ پوچھا کہ اگر اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو۔ بالخیرِ۔ قال ارأیتُ إن لم یفعل۔ فرمایا کہ بھلائی کی تلقین کرے ۔ پوچھا کہ اگر اس کی استطاعت قال یُمسكُ عن الشر فانھا نہ رکھتا ہو۔ فرمایا کہ وہ لوگوں کو اپنے شر سے بچائے ، صدقةٌ (متفق علیہ) کیوں کہ یہ بھی ایک صدقہ ہے۔ اسلام آدمی کے اندر نفع بخشی کی روح پیدا کرتا ہے۔ اسلام آدمی کے اندر یہ مزاج بناتا ہے کہ وہ دنیا میں دینے والا بن کر رہے نہ کہ لینے والا۔ مسلمان کے پاس اگر مال ہے تو وہ اپنے مال سے دوسروں کو نفع پہنچائے گا۔ اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو وہ محنت کرے گا اور پھر اپنی ضرورت بھی پوری کرے گا اور دوسروں کے کام آنے کی بھی کوشش کرے گا۔ اگر وہ مال نہیں دے سکتا تو وہ اپنی بات سے دوسروں کی مدد کرے گا، خواہ ایک مظلوم کی حمایت کرنا ہو یا کسی سے کوئی بھلائی کا کلمہ کہنا ہو۔ حتیٰ کہ اگر آدمی کا یہ حال ہو جائے کہ وہ کسی بھی قسم کا کوئی فائدہ پہنچانے کے قابل نہ ہو تو وہ اس بات کا اہتمام کرے گا کہ وہ کسی کے لیے مسئلہ نہ بنے، اس کی ذات سے کسی کو نقصان نہ پہنچے۔ مومن دنیا میں مفید بن کر رہتا ہے، یاکم ازکم وہ اپنے آپ کو آخری حد تک بے مسئلہ بنا لیتا ہے۔ ان دو کے بعد کوئی تیسرا درجہ مومن کے لیے نہیں۔ ایمان آدمی کو دوسروں کا خیر خواہ بناتا ہے۔ اس کا ایمان اس سے کہتا ہے کہ تم اگر دوسروں کو نفع نہیں پہنچا سکتے تو کم از کم انھیں نقصان نہ پہنچاؤ، کیونکہ یہ بھی دوسروں کے حق میں خیر خواہی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page