Urdu book · الربَّانِيَّةُ

اسلامی اخلاق

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

محنت امام بخاری نے حضرت مقداد بن معدی کرب سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے بہتر کھانا وہ ہے جو آدمی اپنے دونوں ہاتھوں کی محنت سے حاصل کر کے کھائے (ما أكل أحدٌ طعاما قط خيراً من أن يأكل من عمل يده) اسلام مومن کے اندر جو مزاج پیدا کرتا ہے وہ محنت اور عمل کا مزاج ہے۔ مومن کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ آخرت کی ابدی دنیا میں آدمی کو صرف وہی ملے گا جس کے لیے اس نے واقعتاً عمل کیا ہو (ليس للانسان الا ماسعی) یہ عقیدہ مومن کو آخرت کے بارہ میں آخری حد تک باعمل بنا دیتا ہے ، اور جب آخرت کے معاملہ میں اس کے اندر عمل کا مزاج بنتا ہے تو یہی چیز اس کو دنیا کے معاملہ میں بھی باعمل بنا دیتی ہے۔ مومن مانگ کر لینے کے بجائے کر کے لینا پسند کرتا ہے۔ مومن دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے خود اپنے ہاتھ پاؤں سے عمل کر کے اپنی معاش کماتا ہے۔ مومن آخری حد تک خدا پر بھروسہ کرنے والا ہوتا ہے ، اس لیے اس کو گوارا نہیں ہوتا کہ خود محنت نہ کرے اور دوسروں سے ملی ہوئی رعایت پر اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو جسم دیا ہے، وہ ایک اعلیٰ ترین قسم کی زندہ مشین ہے۔ اس کے اندر ہر قسم کی بہترین صلاحیتیں پوری طرح موجود ہیں۔ مومن اس کو خدا کا قیمتی عطیہ سمجھتا ہے اور قلب اور روح کی تمام گہرائیوں کے ساتھ اس کے لیے خدا کا شکر ادا کرتا ہے۔ یہ شکر گزاری اس کے لیے مزید محرک ہوتی ہے کہ وہ اس عطیہ کو عمل میں لائے ، وہ اپنے جسم کو بھر پور طور پر استعمال کرے ۔ مومن اپنے عمل کا ذمہ دار خود اپنے آپ کو سمجھتا ہے۔ مومن کی نفسیات اس کے اندر خود بخود محنت کا مزاج پیدا کر دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ذہن اور جسم کی غیر معمولی طاقتیں دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو تسخیری صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ ایسی حالت میں اپنے ذہن اور جسم کی طاقتوں استعمال نہ کرنا گویا براہ راست اللہ کی ناشکری ہے۔ یہ خدا کے خلاف ایک قسم کا عدم اعتماد ہے۔ مومن اللہ کا شکر کرنے والا اور اللہ پر بھروسہ کرنے والا انسان ہوتا ہے۔ اس کا یہ مزاج اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی ضروریات کے لیے اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں پر اعتماد کرے نہ کہ اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے عطیہ پر۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page