Urdu book · اللہ اکبر

خدا کا وجود

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کا وجود خدا کے وجود کا سب سے بڑا ثبوت انسان کا خود اپنا وجود ہے۔ خدا جیسی ہستی کو ماننا جتنا مستبعد ہے اتنا ہی مستبعد یہ بھی ہے کہ انسان جیسی ہستی کو مانا جائے۔ اگر ہم ایک انسان کو مانتے ہیں تو ایک خدا کو ماننے میں بھی ہمارے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہونا چاہیے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے انسان کے اندر اپنی روح پھونکی (الحجر، 29 :15)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان خدا کی صفات کا ایک بشری نمونہ ہے۔ وجود، زندگی ، علم ، قدرت، ارادہ، اختیار اور دوسری صفات کمال جن کا حقیقی مظہر صرف خدا کی ذات ہے۔ ان کا ایک عکس (نہ کہ حصہ) انسان کو ودیعت کیا گیا ہے۔ انسان کسی بھی اعتبار سے خدا کا جزء نہیں مگر وہ اپنی ذات میں اس خدا کی محسوس دلیل ہے جس کو غیبی طور پر ماننے کا اس سے مطالبہ کیا گیا ہے۔ انسان کے اندر وہ ساری خصوصیات شہود کے درجہ میں موجود ہیں جن خصوصیات کے ساتھ ایک خدا کو غیب کے درجہ میں ماننے کا اس سے مطالبہ کیا گیا ہے۔ انسان کا ایک مستقل وجود ہے۔ وہ دیکھنے اور سننے اور بولنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ سوچتا ہے اور منصوبہ بناتا ہے۔ وہ اپنے ذاتی ارادہ کے تحت حرکت کرتا ہے۔ وہ مادہ کو تمدن میں تبدیل کرتا ہے۔ وہ ریموٹ کنٹرول سسٹم کے ذریعہ خلائی مشین کو چلاتا ہے۔ وہ اپنی ذات کا شعور رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ "میں ہوں" انہی صفات کی کامل ہستی کا نام خدا ہے۔ انسان اور خدا میں جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ انسان کا وجود غیر حقیقی ہے اور خدا کا وجود حقیقی۔ یہ مخلوق ہے اور وہ خالق۔ یہ محدود ہے اور وہ لا محدود۔ یہ بے اختیار ہے اور وہ با اختیار۔ یہ فانی ہے اور وہ غیر فانی۔ انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ عطیہ ہے جب کہ خدا کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کا ذاتی ہے، وہ کسی دوسرے کا دیا ہوا نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page