Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کو ماننا بلاتشبیہ ”چھوٹے خدا“ کو ماننا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے وہ ”بڑے خدا“ کو نہ مانے ہر شخص جو خدا کو نہیں مانتا وہ یقیناً اپنا اقرار کرتا ہے۔ وہ انسانی وجود کو تسلیم کرتا ہے۔ جو شخص انسان کو مان رہا ہو اس کے لیے خدا کو نہ ماننے کی کوئی دلیل نہیں۔ انسان کے وجود کا اقرار کر کے وہ خدا کے وجود کا بھی اقرار کر چکا ہے، خواہ وہ اپنی زبان سے اس کا اظہار کرے یا نہ کرے ۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کا انکار خود اپنا انکار ہے۔ اور کون ہے جو خود اپنا انکار کر سکے۔ عجیب کرشمہ انسان کا جسم چند مادی چیزوں سے مل کر بنا ہے پانی ، کاربن، آکسیجن اور کچھ مزید کیمیائی عناصر ۔ ظاہری تجزیہ کے اعتبار سے انسان بس اسی قسم کی چند چیزوں کا مجموعہ ہے۔ رابرٹ پیٹلیسن ( R. Pattison) نے انسانی جسم کے ان مادی عناصر کا حساب لگایا تو اس نے پایا کہ بازار کی شرح کے لحاظ سے ان کی کل قیمت ساڑھے چھ ڈالر ہے یعنی ہندوستانی سکہ میں تقریباً ستر روپیہ۔ مگر اسی ”ستر روپیہ“ کے سامان سے اللہ تعالیٰ نے ایسا انمول آدمی بنایا ہے جو اتنا قیمتی ہے کہ سکہ میں اس کی قیمت مقرر نہیں کی جاسکتی۔ ستر کھرب روپے بھی ایک انسان کی قیمت نہیں ہوسکتے۔ انسان کے انتہائی قیمتی ہونے کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ اس کا کوئی عضو اس سے چھن جائے ۔ انسان کا ایک ہاتھ کٹ کر اس سے جدا ہو جائے تو اربوں ڈالر ادا کر کے بھی دوبارہ ویسا ہاتھ اس کو نہیں مل سکتا۔ انسان کی آنکھ اگر بے نور ہو جائے تو ساری دنیا کی دولت بھی اس کو وہ آنکھ نہیں دے سکتی جس سے وہ دوبارہ دیکھنے لگے۔ انسان کی زبان اگر جاتی رہے تو کوئی بھی قیمت ادا کر کے وہ بازار سے ایسی چیز نہیں پا سکتا جس سے وہ بولے اور اپنے خیالات کا اظہار کر سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page