حق کو پانا
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
حق کو پانا انسان کا ذہن حق کا آئینہ ہے۔ آئینہ کے سامنے کوئی چیز لائی جائے تو وہ اس کی ہو بہو صورت اپنی سطح پر اتار لیتا ہے۔ وہ کبھی اس میں کو تاہی نہیں کرتا۔ ٹھیک یہی حال آدمی کے ذہن کا ہے۔ اس کے سامنے جب حق آتا ہے تو وہ فوراً اس کو پہچان لیتا ہے۔ وہ پوری طرح اسے پالیا ہے۔ وہ نہ دیکھنے میں غلطی کرتا اور نہ پہچاتنے میں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آیات بینات (کھلے دلائل) کے ذریعہ حق سامنے آتا ہے، اس کے باوجود بے شمار لوگ اس کو قبول نہیں کرتے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ اور وہ نفسیاتی اٹکاؤ ہے۔ ایسے افراد کا گہر تجزیہ کیجئے تو ان کے انکار کی وجہ کوئی حقیقی دلیل نہیں ہوگی۔ بلکہ کوئی نہ کوئی دوسری غیر متعلق چیز ہوگی جس کے ساتھ آدمی اٹکا ہوا ہوگا۔ سچائی کو پانے کی ایک ہی لازمی شرط ہے۔ وہ یہ کہ حق واضح ہونے کے بعد آدمی کسی بھی اور چیز کو اپنے لیے رکاوٹ نہ بننے دے۔ مگر آدمی اکثر حالات میں ایسا نہیں کر پاتا۔ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی چیز کو اپنے لیے رکاوٹ بنالیتا ہے۔ کوئی کسی شخصیت پر اٹک کر رہ جاتا ہے۔ کوئی کسی مفاد پر، کوئی کسی اور چیز پر۔ یہی وہ کمزوری ہے جس نے ہر دور میں بے شمار لوگوں کو سچائی اختیار کرنے سے محروم کر دیا۔ وہ پانے کے باوجود اس کو پانے میں ناکام رہے۔ ابو جہل کے لیے اس کا قیادتی مفاد قبول حق میں رکاوٹ بن گیا۔ طائف کے لوگوں نے حق کو اس لیے قبول نہیں کیا کہ اس کا اعلان ایک ایسے شخص کی زبان سے ہو رہا تھا جو بظاہر انہیں وقت کی بڑی بڑی شخصیتوں سے کم تر دکھائی دیتا تھا۔ یہود نے آپ کا انکار اس لیے کیا کہ آپ کو پیغمبر ماننے سے ان کا احساس برتری ٹوٹتا تھا۔ شہنشاہ ہرق ل نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader