اللہ اکبر
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
اس لیے اس کا اقرار نہیں کیا کہ اس نے محسوس کیا کہ اگر میں ایسا کروں تو میں اپنی قوم سے کٹ جاؤں گا۔ ہر ایک دلیل سے مفتوح ہو چکا تھا۔ مگر ہر ایک کسی نہ کسی چیز میں اٹک کر اس کو قبول کرنے سے باز رہا۔ اس دنیا میں حق صرف اس شخص کو ملتا ہے جو کسی اٹکنے والی چیز پر نہ اٹکے۔ سچائی کا دلیل سے واضح ہو جانا ہی اس کے لیے کافی ہو کہ وہ اس کو ہمہ تن قبول کرلے۔ خدا کو پانے والے خدا کی زمین پر شاید ایسے لوگ موجود نہیں جنھوں نے خدا کو ان عظمتوں کے ساتھ پایا ہو جس کے اثرات اس ہیجان خیز کیفیت میں ڈھل جاتے ہیں جس کو خدا کی یاد کہا گیا ہے۔ جھوٹی عبادت کی دھوم ہر طرف نظر آتی ہے۔ مگر سچی عبادت اتنی نایاب ہے کہ امکان ہی کے درجہ میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ کہیں موجود ہوگی۔ آج ساری دنیا میں دین اور اسلام کا غلغلہ بلند ہے۔ مگر وہ انسان شاید خدا کی زمین پر کہیں پایا نہیں جاتا جس نے خدا کو اس طرح دیکھا ہو کہ اس کی ہیبت سے اس کا دل دہل اٹھے اور اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ جو قرآن کو پڑھے تو اس کی روح پکار اٹھے کہ خدا یہ تیرا کتنا بڑا احسان ہے تو نے میری ہدایت کا ایسا انتظام کیا، ورنہ میں جہالت کے اندھیروں میں بھٹکتا رہتا۔ وہ رسول کی سنت کو دیکھے تو اس کا وجود اس دریافت سے سرشار ہو جائے کہ یہ خدا کا کیسا غیر معمولی انتظام تھا کہ اس نے پیغمبر کی زندگی میں ہدایت کا بے داغ نمونہ قائم کیا اور پھر تاریخ میں اس کو روشنی کے ابدی مینار کی طرح محفوظ کر دیا۔ جب وہ سجدہ کرتے ہوئے اپنا سرزمین پر رکھے تو اس کو یہ احساس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader