خدا کو پانے والے
Urdu book, p. 104
By Maulana Wahiduddin Khan
ہونے لگے کہ اس کے رب نے اس کو اپنی رحمت کے آغوش میں لے لیا ہے۔ جب وہ کوئی غذا اپنی حلق کے نیچے اتارے تو اس کی پوری ہستی میں اس احسان مندی کی لہر دوڑ جائے کہ کیسا عجیب ہے وہ خدا جس نے میرے جسم کی پرورش کے لیے ایسی ممکن غذا کا اہتمام کیا۔ جب وہ پانی پئے تو اس کی آنکھوں سے ایک اور جھرنا بہہ پڑے اور وہ بے اختیار ہو کر کہے کہ خدا یا اگر تو مجھے سیراب نہ کرے تو میں سیراب ہونے والا نہیں۔ اگر تو مجھے پانی نہ دے تو کہیں سے مجھ کو پانی ملنے والا نہیں۔ آہ، لوگ اپنے کو خدا سے کتنا قریب سمجھتے ہیں مگر وہ خدا سے کتنا زیادہ دور ہیں۔ وہ خدا کا نام لیتے ہیں۔ مگر ان کے منہ میں خدا کی مٹھاس کی شکر نہیں گھلتی۔ وہ خدا کو پانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مگر خدا کے چمنستان کی کوئی خوشبو ان کے مشام کو معطر نہیں کرتی۔ وہ خدا کے نام پر دھوم مچاتے ہیں مگر خدا کے نورانی سمندر میں نہانے کا کوئی نشان ان کے جسم پر ظاہر نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خدا کی جنتیں ان کے لیے مخصوص ہو چکی ہیں مگر جنت کے باغ کا کوئی جھونکا ان کے وجود کو نہیں چھوتا۔ کیسا عجیب ہو گا وہ خدا جس کی یاد دل و دماغ کی دنیا میں کوئی اہتزاز (Thrill) پیدا نہ کرے۔ کیسی عجیب ہو گی وہ جنت جس میں داخلہ کا ٹکٹ آدمی اپنی جیب میں لیے ہوئے ہو مگر جنت کا باسی ہونے کی کوئی جھلک اس کے رفتار و گفتار سے نمایاں نہ ہو۔ کیسے عجیب ہوں گے وہ آخرت والے جن کے لیے آخرت کی ابدی وراثت لکھی جا چکی ہو مگر ان کی ساری دلچسپیاں بدستور اسی عارضی دنیا میں اٹکی ہوئی ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader