انکشاف خداوندی
Urdu book, p. 105
By Maulana Wahiduddin Khan
انکشافِ خداوندی نیکیتا خروشیوف (1971-1894) نے کہا تھا ”ہمارا راکٹ چاند تک گیا مگر اس کو کہیں خدا نہیں ملا۔“ کمیونسٹ روس کے سابق صدر نے یہ بات نعوذ باللہ بطورِ مذاق کہی تھی۔ مگر موجودہ زمانہ کے تمام سیکولر محققین پر وہ پوری طرح صادق آتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں بہت بڑے پیمانے پر فطرت کے علوم کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ زمین سے لے کر آسمان تک کی مختلف چیزوں کی تحقیق میں بے شمار لوگوں نے اپنی عمریں صرف کر دیں۔ مگر ان لوگوں کی کتابیں پڑھتے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں کہیں ان کی خدا سے ملاقات نہیں ہوئی۔ وہ زمین سے لے کر آسمان تک سفر کرتے رہے۔ مگر خدا کی کوئی جھلک انہیں دکھائی نہیں۔ انھوں نے خاموش لہروں کے ذریعہ سفر کرنیوالی آوازوں کو پکڑ لیا۔ مگر ان کے کان خدا کی آواز سے آشنا نہیں ہوئے۔ ان کی خوردبینوں اور دور بینوں نے انہیں ایسی چیزیں دکھائیں جو اس سے پہلے انسان نے کبھی نہیں دیکھی تھیں مگر خدا کے فرشتوں سے ان کا کبھی مصافحہ نہیں ہوا جو کائنات میں ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ یہی واقعہ موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین اور قائدین کے ساتھ بھی کسی قدر بدلی ہوئی شکل میں پیش آیا ہے۔ جس طرح سیکولر مفکرین کو کائنات کا صرف ظاہر ملا، اس کی اندرونی حقیقت انہیں نہیں ملی۔ اسی طرح مسلم مفکرین کے حصہ میں اسلام کا صرف ظاہری ڈھانچہ آیا۔ وہ اسلام کی اندرونی حقیقت سے آشنا نہ ہوسکے۔ آپ ان مفکرین کی تقریریں سنیے، ان کی سوانح عمریاں پڑھیے۔ ان کی کتابوں کا مطالعہ کیجیے۔ آپ کو ان میں ہر چیز ملے گی مگر وہی چیز نہیں ملے گی جو اسلام کی اصل روح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader