Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں، اس لیے اس کی دریافت بھی ایک مسلسل واقعہ ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ جو ایمان اضافہ پذیر نہ ہو وہ غفلت کی ایک قسم ہے، اس کو حقیقی معنوں میں ایمان نہیں کہا جا سکتا۔ جس کا ذہن خدا کی طرف متوجہ ہو، جس کا دل خدا کی طرف لگا ہوا ہو، اس کو بار بار خدا کی نئی تجلیات کا ادراک ہوتا ہے۔ وہ بار بار خدا کی نئی جھلک پاتا رہتا ہے۔ جس طرح خدا کے کمالات کہیں ختم نہیں ہوتے، اسی طرح مومن کا سفر معرفت بھی کسی حد پر ختم نہیں ہوتا۔ یہ نئی معرفت کبھی ایسی ربانی کیفیات کی صورت میں امنڈتی ہے جس سے وہ اس سے پہلے کبھی آشنا نہیں ہوا تھا۔ کبھی ایسے دعائیہ الفاظ کے روپ میں بے اختیار اس کی زبان پر آ جاتی ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں سوچا تھا۔ کبھی وہ خدا کی حکمتوں میں سے کسی ایسی حکمت کا راز پا لیتا ہے جو اس سے پہلے اس پر نہیں کھلے تھے۔ وہ خدا کی قربت کا ایسا تجربہ کرتا ہے جو اس سے پہلے کبھی اس کے علم میں نہیں آئے تھے۔ کبھی اس پر ایسے نئے معانی کا القاء ہوتا ہے، جس کے اظہار کے لیے اس کے تمام معلوم الفاظ عاجز نظر آنے لگتے ہیں۔

ہر چیز عجیب موجودہ قسم کی چھتری لندن میں سب سے پہلے 1749 میں بنائی گئی۔ اس وقت اس کا تعارف ایک شخص نے ان الفاظ میں کرایا تھا: When opened it was like a small tent, and when shut it was all curiously jointed and would fold up to the length of a man's hand. جب اس کو کھولا جائے تو ایک چھوٹے خیمے کے مانند ہو جاتی ہے اور جب اس کو بند کیا جائے تو حیرت انگیز طور پر وہ پوری سمٹ جاتی ہے اور لمبائی میں ایک آدمی کے ہاتھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page