ہر چیز عجیب
Urdu book, p. 108
By Maulana Wahiduddin Khan
کے برابر ہو جاتی ہے (ٹائمز آف انڈیا، 26 مئی 1984)۔ موجودہ صدی کی ابتدا میں ہندوستان کے ایک دیہات میں ایک زمین دار کے یہاں پہلی بار ہینڈ پمپ (hand pump) لگایا گیا۔ جب اس کو چلایا گیا اور زمین سے وہ پانی کھینچ کر نکالنے لگا تو ایک دیہاتی عورت نے اس کو دیکھ کر کہا: "آدمی صرف موت سے ہارا ہے۔"۔ یعنی آدمی سب کچھ کر سکتا ہے۔ صرف ایک موت ایسی چیز ہے جس پر قابو پانا اس کے اختیار میں نہیں۔ دو سو سال پہلے چھتری اور ہینڈ پمپ آدمی کو انتہائی عجیب معلوم ہوتے تھے۔ مگر آج آدمی چھتری اور ہینڈ پمپ کو دیکھتا ہے اور اس کے اندر کوئی استجاب پیدا نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کو دیکھتے دیکھتے اب وہ اس کا عادی بن چکا ہے۔ کوئی چیز جب بار بار آدمی کے سامنے آتی ہے تو وہ اپنا انوکھا پن کھو دیتی ہے۔ اس کے بعد انتہائی عجیب چیز بھی اس کے لیے غیر عجیب بن کر رہ جاتی ہے۔ یہی معاملہ خدا کی تخلیقات کا ہے۔ موجودہ دنیا میں جو چیز بھی ہے، نہایت عجیب ہے۔ خواہ وہ ایک چھوٹی پتی ہو یا عظیم سمندر ہو، ایک بے نور ذرہ ہو یا روشن آفتاب ہو۔ مگر آدمی پیدا ہوتے ہی ان کو دیکھتا ہے اور ساری زندگی ہر روز دیکھتا رہتا ہے۔ اس طرح برابر دیکھتے رہنے کی وجہ سے ان کا عجوبہ پن اس کی نظر میں ختم ہو جاتا ہے۔ ان کو دیکھ کر آدمی کے اندر استجاب پیدا نہیں ہوتا۔ اگر انہیں چیزوں میں سے کسی چیز کو وہ اچانک ایک روز دیکھے تو وہ احساسِ حیرت میں ڈوب جائے۔ یہی موجودہ دنیا میں آدمی کا امتحان ہے۔ اس کو ایک درخت کو اس طرح دیکھنا ہے جیسے کہ وہ پہلی بار اچانک اس کے سامنے کھڑا ہو گیا ہو۔ اس کو ایک سورج کو اس طرح دیکھنا ہے جیسے کہ وہ بالکل پہلی بار اس کے سامنے چمک اٹھا ہو۔ ایک چڑیا کے نغمہ کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader