اللہ اکبر
Urdu book, p. 109
By Maulana Wahiduddin Khan
اسے اس طرح سنتا ہے جیسے کہ اس کے کان پہلی بار اس کے چچھے سے آشنا ہوئے ہوں۔ نفی ذات حضرت یوسف علیہ السلام کے قصہ کو قرآن میں احسن القصص (بہترین قصہ) کہا گیا ہے (یوسف، 12:3)۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی زندگی اس بات کی ایک تاریخی مثال ہے کہ کس طرح خدائی مدد واقعات کے دھارے کو پھیر دیتی ہے۔ وہ ایک اسوء القصص کو احسن القصص بنا دیتی ہے۔ حضرت یوسف کے دشمنوں نے آپ کو کنویں میں ڈال دیا۔ مگر خدا نے آپ کو کنویں سے نکال کر مصر کے تخت پر پہنچادیا۔ جہاں آپ کے مخالفین نے آپ کی کہانی ختم کرنی چاہی تھی وہیں سے آپ کی ایک نئی شاندار تر کہانی شروع ہو گئی۔ مذکورہ سورہ میں حضرت یوسف کا قصہ بیان کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے: یہاں تک کہ جب پیغمبر مایوس ہو گئے اور خیال کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا تو ان کو ہماری مدد آپہنچی پھر ہم نے جس کو چاہا بچا لیا اور ہمارا عذاب مجرموں سے ٹالا نہیں جاتا (12:110)_ اس سے معلوم ہوا کہ خدا کی مدد مایوسی کی حد پر پہنچ کر ملتی ہے۔ ”مایوسی“ سے مراد وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنا سب کچھ دے کر خالی ہو چکا ہو۔ اس کے پاس مزید کچھ دینے کے لیے باقی نہ رہے۔ جب وہ محسوس کرنے لگے کہ بندگی کی حد ختم ہو گئی ۔ اب وہ درجہ آ گیا ہے جہاں سے خدائی کی حد شروع ہوتی ہے۔ عین اس وقت خدا کی مدد آجاتی ہے۔ ناکامی کی انتہا کامیابی کا آغاز بن جاتا ہے۔ بیج کا ختم ہونا ایک درخت کو وجود دیتا ہے۔ یہی معاملہ خدا اور بندے کا بھی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader