اللہ اکبر
Urdu book, p. 110
By Maulana Wahiduddin Khan
آدی خدا کی مدد کا مستحق اس وقت بنتا ہے جب کہ وہ اپنے آپ کو خدا کے لیے مٹا دے۔ جہاں اعتماد خویش ختم ہو جائے وہاں سے اعتماد علی اللہ کا آغاز ہوتا ہے۔ خدا بلا شبہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ مگر خدا کو پانا ہمیشہ اپنی نفی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ آدمی اپنی نفی نہیں کرتا اسی لیے وہ خدا کو پانے والا بھی نہیں بنتا۔ خدا ہر چیز کا بدل ہے۔ خدا کو پانا سب کچھ کو پالینا ہے۔ مگر انسان کی یہ نادانی بھی عجیب ہے کہ وہ بے کچھ کے لیے سب کچھ کو کھو دیتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش میں خدا سے محروم ہو جاتا ہے۔ اللہ کا ذکر ذکر کے معنی یاد کے ہیں۔ اللہ کے ذکر کا مطلب ہے اللہ کی یاد۔ یہ یاد کوئی مصنوعی چیز نہیں، وہ اللہ کی معرفت کا لازمی اور قدرتی نتیجہ ہے۔ جب کوئی آدمی اللہ کو اس کی عظمتوں اور قدرتوں کے ساتھ پاتا ہے تو اس کے اندر ایک روحانی ہلچل پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اس کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ اس کو ہر وقت اللہ کی یاد آتی رہتی ہے۔ یہ یاد کبھی دل کے اندر تڑپ بن کر ظاہر ہوتی ہے اور کبھی زبان سے حمد اور شکر اور خشیت کے الفاظ کی صورت میں بے ساختہ نکل پڑتی ہے۔ اسی کیفیت کو اللہ کی یاد کہا جاتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اتھاہ خلا میں ستاروں اور کہکشاؤں کی حرکت پر غور کرتا ہے۔ وہ پکار اٹھتا ہے کہ وہ خدا بھی کیسا عظیم خدا ہو گا جو اتنے بڑے کارخانے کو اتنی صحت کے ساتھ متحرک کیے ہوئے ہے۔ کبھی وہ درختوں اور پہاڑوں اور دریاؤں کے پُر کشش مناظر کو دیکھتا ہے۔ اور ان کے حسن اور معنویت کا ادراک کر کے حیران رہ جاتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader