اللہ اکبر
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئے ۔ خدا کے مقابلہ میں بندوں کی یہ سرکشی موجودہ دنیا میں بظاہر کامیاب نظر آتی ہے۔ مگر یہ کامیابی صرف اس لیے ہے کہ موجودہ دنیا میں لوگوں کو امتحان کی آزادی حاصل ہے جیسے ہی امتحان کی مدت ختم ہوگی، آدمی اپنے آپ کو اتنا بے زور پائے گا کہ اس کے پاس الفاظ بھی نہ ہوں گے کہ وہ کسی کے خلاف بولے ، اس کے پاس دل بھی نہ ہوگا کہ کسی کو ملیا میٹ کرنے کا منصوبہ بنائے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو آزادی حاصل ہے یہاں کسی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ خدا کے چاہے کو باطل کرے، وہ خدا کے تقسیم رزق کو کھنڈت کرنے کی کوشش کرے مگر ایسے لوگوں کا حال اس وقت کیا ہوگا جب امتحان کی موجودہ آزادی ختم ہوچکی ہوگی جب وہی ہوگا جو خدا چاہے اور وہ نہ ہو سکے گا جو خدا نہ چاہے، اس روز خدا کہے گا ۔ میں دیتا ہوں جس کو چاہوں، اب جس کو کرنا ہے میرے چاہے کو باطل کرے۔ دولت کا فریب کوالا لمپور کے اخبار نیو اسٹریٹس ٹائمس (New Straits Times) کی اشاعت 28 جولائی 1984 میں ایک خبر نظر سے گزری۔ ایک اطالوی نژاد امریکی کارپینٹر (carpenter) ویز وپیگانو (Venero Pagano) جس کی عمر 63 سال ہے اور وہ نیو یارک کے قریب رہتا ہے۔ وہ آٹھ سال سے بے روزگار تھا اور یونین کی پنشن سے اپنا کام چلا رہا تھا۔ اس کے پاس اتنی رقم بھی نہ تھی کہ اپنے مکان سے متصل زمین پر حسب منشا ٹماٹر کی کاشت کر سکے۔ مذکورہ کارپینٹر نے لاٹری کا ایک ٹکٹ خریدا۔ 27 جولائی 1984 کو اچانک اسے معلوم ہوا کہ اس کو اول انعام ملا ہے یہ انعام 20 ملین ڈالر تھا۔ یہ اب تک کے لاٹری انعاموں میں دنیا بھر میں سب سے بڑا انعام ہے۔ انعام کی خبر سب سے پہلے ٹیلی وژن پر آئی۔ اس کے فورا بعد اس کے لیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader