اللہ اکبر
Urdu book, p. 122
By Maulana Wahiduddin Khan
سیکنڈ بعد گرتا تو یقیناً ہم دونوں اس کی زد میں آجاتے ۔ ہمارا سفر شاید درمیان ہی میں ختم ہو جاتا جس کی منزل ہم نے بہت آگے سمجھ رکھی تھی۔ میں نے سوچا آدمی اور اس کی موت کے درمیان صرف پانچ سیکنڈ کا فاصلہ ہے۔ کسی بھی آدمی کے لیے ہر آن یہ اندیشہ ہے کہ اس کا پانچ سیکنڈ کا سفر پورا ہو جائے اور اچانک وہ اپنے آپ کو دوسری دنیا میں پائے۔ آدمی اگر اچھی طرح اس بات کو جان لے کہ اس کے اور موت کے درمیان صرف پانچ سیکنڈ کا فاصلہ ہے تو اس کی دنیا بالکل بدل جائے۔ وہ ایک اور ہی قسم کا انسان بن جائے وہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت میں جینے لگے۔ زندگی کا راز یہ ہے کہ آدمی اس بات کو جان لے کہ وہ ہر وقت موت کے کنارے کھڑا ہوا ہے ایسی موت جس کے معا بعد آدمی ، حدیث کے الفاظ میں ، یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں داخل ہو جاتا ہے یا دو زرخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھے میں جا گرتا ہے۔ آدمی کا ہر قدم اس کو دو انتہائی انجام میں سے کسی ایک انجام کے قریب پہنچا رہا ہے۔ مگر انسان اتنا بے حس بنا ہوا ہے کہ اس کو اس کی خبر نہیں۔ لوگ جھوٹی خدا پرستی پر بھروسہ کیے ہوئے ہیں حالانکہ آخرت میں صرف حقیقی خدا پرستی کسی شخص کے کام آئے گی ۔ حقیقی خدا پرستی یہ ہے کہ آدمی اس طرح اللہ سے ڈرنے لگے کہ وہ اس کے ذہن پر چھا جائے وہ اس کے صبح و شام کا نگراں بن جائے وہ جو کچھ کرے یہ سمجھ کر کرے کہ وہ خدا کے سامنے ایسا کر رہا ہے اس کو دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر ستانے لگے۔ نا تمام کہانی مسٹر پی این پاٹھک ایک بے محنتی آدمی تھے وہ انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس (نئی دہلی) میں ایک معمولی ملازم کے طور پر 1958 میں داخل ہوئے اور آخر میں اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader