Urdu book · اللہ اکبر

نا تمام کہانی

Urdu book, p. 123

By Maulana Wahiduddin Khan

کمپوزنگ شعبہ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ بن گئے۔ وہ غالباً مزید ترقی کرتے مگر 27 دسمبر 1984ء کو حرکت قلب بند ہونے سے ان کا انتقال ہو گیا مرنے کے وقت ان کی عمر صرف 50 سال تھی۔ ہندوستان ٹائمز (28 دسمبر (1984) میں ان کی اچانک موت کی خبر دیتے ہوئے یہ الفاظ درج ہیں کہ وہ اپنے عہدہ پر محض سخت محنت کے ذریعے پہنچے تھے: He rose to the present position by sheer hard work مسٹر پاتھک نے الہ آباد میں تعلیم حاصل کی اس کے بعد پندرہ سال تک وہ ٹائمز آف انڈیا اور انڈین ایکسپریس میں رہے۔ اس کے بعد 1958 میں وہ ہندوستان ٹائمز کے عملہ میں داخل ہوئے۔ یہاں انہیں جم کر کام کرنے اور محنت کرنے کا موقع ملا 25 سال محنت کے بعد وہ اخبار میں ایک بڑے عہدہ پر پہنچ گئے مگر ابھی وہ اس عہدہ سے متمتع بھی نہیں ہو سکے تھے کہ اچانک موت کا وقت آ گیا۔ یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کیسے عجیب المیہ سے دوچار ہے۔ انسان بے پناہ محنت کرتا ہے وہ اپنی پوری طاقت خرچ کر کے ترقی کے اعلیٰ مقام پر پہنچتا ہے۔ مگر اپنی کوششوں کے آخری انجام سے فائدہ اٹھانے کا ابھی آغاز بھی نہیں ہوتا کہ اس کی موت آ جاتی ہے۔ زندگی کا یہ خاتمہ کیسا درد ناک ہے مگر کوئی شخص اس پر غور نہیں کرتا ہر آدمی دوبارہ اسی دردناک کہانی کو لکھنا چاہتا ہے جس کو اس کے پیش رونے لکھنا چاہا تھا اور وہ اس کو لکھنے میں کامیاب نہ ہوا۔ تمام انسانوں کی کہانی نامکمل کہانی ہے۔ مگر کوئی نہیں جس کو یہ سوال بے چین کرے کہ اس کا راز کیا ہے اور وہ کون سا طریقہ ہے جس کو اختیار کر کے انسان کی کہانی مکمل کہانی بن سکے۔ ہر انسان اس دنیا میں ایک نا تمام کہانی ہے۔ ہر انسان اپنی منزل پر پہنچ کر اچانک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page