Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 124

By Maulana Wahiduddin Khan

بے منزل ہو جاتا ہے۔ زندگی کی یہ بے انجامِی کیسی عجیب ہے اور اس سے زیادہ عجیب یہ ہے کہ کسی کو اپنی بے انجامِی کی فکر نہیں۔ موت کو یاد کرو کچھوا پانچ سو سال تک زندہ رہتا ہے۔ درخت ایک ہزار سال تک زمین پر کھڑا رہتا ہے۔ پہاڑ اور دریا کروڑوں سال تک اپنی شان کو باقی رکھتے ہیں۔ مگر انسان کی عمر پچاس یا سو سال سے زیادہ نہیں۔ انسان جو بظاہر تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ اشرف اور افضل ہے وہ سب سے کم زندگی پاتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ مختصر زندگی بھی ناکامیوں کی ایک مسلسل داستان کے سوا اور کچھ نہیں۔ آدمی کی زندگی غم اور دکھ سے اتنا زیادہ بھری ہوئی ہے کہ خوشی کے لمحات غفلت کی چند جھلکیوں سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتے۔ بیماری، حادثہ، بڑھاپا، امیدوں کی مسلسل پامالی کا نام زندگی ہے اور بالآخر اس قسم کے درد ناک ایام گزارتے ہوئے ایک دن موت کے آگے شکست کھا جانا۔ ایک غریب کو یہ حسرت ہوتی ہے کہ اس کے پاس بڑا مکان نہیں۔ اس کے پاس ضروریات زندگی کے لیے کافی پیسہ نہیں۔ مگر دوسری طرف ان لوگوں کا حال بھی بہت مختلف نہیں جن کو ایک غریب آدمی رشک کی نظر سے دیکھتا ہے، دولت مند آدمی کے لیے پیسہ ہونا اس سے زیادہ بڑے مسائل پیدا کرتا ہے جو غریب کو پیسہ نہ ہونے کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ ایک مشہور آدمی جس کے گرد انسانوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہو اندر سے اس قدر بے چین ہوتا ہے کہ رات کو گولی کھائے بغیر اسے نیند نہیں آتی۔ غرض اس دنیا میں ہر آدمی دکھی ہے، کوئی ایک صورت میں اور کوئی دوسری صورت میں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page