اللہ اکبر
Urdu book, p. 125
By Maulana Wahiduddin Khan
بالفرض کوئی شخص ناموافق حالات سے بچ جائے اور اس خوش قسمتی کو حاصل کرلے جس کو سکھ اور چین کہتے ہیں ، تب بھی کتنے دن تک۔ اگر کوئی شخص اتفاقی اسباب کے تحت خوشیوں کا خزانہ اپنے گرد جمع کرلے تو وہ بھی بس صبح سے شام تک کے لیے ہوگا۔ اس کے بعد اچانک موت کا بے رحم فرشتہ آئے گا اور اس کو اس طرح پکڑے گا کہ نہ اس کی دولت اس کو بچا سکے گی اور نہ اس کی فوج۔ ہوائی جہاز کے مسافر پر بھی موت اسی طرح قابو پالیتی ہے جس طرح ایک پیدل چلنے والے آدمی پر۔ وہ عالی شان محلوں میں بھی اسی طرح فاتحانہ داخل ہو جاتی ہے جس طرح ایک ٹوٹے پھوٹے مکان میں۔ موت آدمی کی سب سے بڑی مجبوری ہے۔ موت آدمی کو یاد دلاتی ہے کہ وہ آج سے اوپر اٹھ کر سوچے ۔ وہ کامیابی کو زندگی کے اُس پار تلاش کرے۔ کامیاب وہ ہے جو موت سے یہ سبق لے لے۔ جو شخص یہ سبق لینے سے محروم رہے اس کی خوشیوں کے چراغ بہت جلد بجھ جائیں گے۔ وہ اپنے کو ایک ایسے بھیانک اندھیرے میں پائے گا جہاں وہ ابدالآباد تک ٹھوکریں کھاتا رہے اور کبھی اس سے نکل نہ سکے۔ جب موت ذہنی طلسم کو توڑ دے گی ایران میں فروری 1979 میں شاہ مخالفت عناصر غالب آگئے۔ اس کے بعد خفیہ انقلابی عدالتیں قائم ہوئیں۔ سرسری سماعت کے بعد ان افسروں کو گولی مار کر ہلاک کیا جانے لگا جنھوں نے شاہ کے حکم کی تعمیل میں شاہ مخالفت عناصر کو کچلنے کی کوشش کی تھی۔ اس سلسلہ میں جو خبریں آ رہی ہیں ان میں بڑی عبرت کا سامان ہے۔ جنرل ربیع شاہ کی خفیہ پولیس ساواک (Savak) میں اعلیٰ افسر تھے۔ 19 اپریل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader