Urdu book · اللہ اکبر

جب موت ذہنی طلسم کو توڑ دے گی

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

1979 کو تہران میں ان لوگوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ایران کی نئی انقلابی حکومت میں ان پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔ رائیٹر کے مطابق انھوں نے اپنے بیان میں عدالت سے کہا: I am sorry I served somebody until it was too late to discover he was nothing. مجھے افسوس ہے کہ میں شاہ ایران کے احکام کی تعمیل کرتا رہا۔ میں اس کے بے حقیقت ہونے کو صرف اس وقت جان سکا جب کہ اس کو جاننے کا وقت نکل چکا تھا۔ یہی صورت زیادہ بڑے پیمانہ پر موت کے وقت پیش آتی ہے۔ آدمی اپنی خواہشوں کے پیچھے دوڑتا رہتا ہے ۔ یہاں تک کہ موت کا وقت آجاتا ہے۔ اس وقت اس کی آنکھ کھلتی ہے۔ اب اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جن خوش نما خیالات اور خوب صورت الفاظ کے سہارے وہ جی رہا تھا ان کی کوئی حقیقت نہ تھی۔ موت کے جھٹکے کے بعد اچانک وہ ہوش میں آجاتا ہے۔ مگر اب اس کا ہوش میں آنا بے کار ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ بدلہ پانے کا وقت ہوتا ہے نہ کہ عمل کرنے کا۔ اسی طرح، رائیٹر کے مطابق، ایک اور ملزم جنرل خواجہ نوری نے عدالت کے سامنے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا: Because of the heavy censorship. I was unaware of the real situation. " خبروں پر بھاری سنسر قائم ہونے کی وجہ سے میں حقیقی صورت حال سے بالکل بے خبر رہا۔ آخرت کے اعتبار سے بھی انسان کا حال یہی ہے۔ آدمی اپنے خیالات میں اس طرح گم رہتا ہے کہ اس کو باہر کے حقائق دکھائی نہیں دیتے۔ وہ اپنی خواہشات کے خول میں بند رہتا ہے۔ وہ لفظی توجیہات وضع کرتا ہے اور ان کے سہارے جیتا رہتا ہے۔ وہ اپنے مطابق حق اور ناحق کا ایک خود ساختہ ڈھانچہ گھڑتا ہے اور اپنے آپ کو اس کے حسب حال پا کر خوش ہوتا رہتا ہے۔ وہ اپنی خوش خیالیوں اور دنیوی کامیابیوں کے مطابق اپنے گرد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page