Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 127

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک فرضی ہالہ بنا لیتا ہے اور اس کے اندر اس طرح صبح و شام کرتا رہتا ہے جیسے وہ ابدی حصار میں آگیا ہے، آدمی اسی طرح اپنی زندگی کے دن گزارتا رہتا ہے، یہاں تک کہ موت آ کر اس کے ذہنی فریب کا پردہ پھاڑ دیتی ہے۔ اب اس کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جس فکری گھرو ندے میں جی رہا تھا وہ فرضی طلسمات کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ وہ جن الفاظ کو لکھ اور بول رہا تھا وہ معنی سے بالکل خالی تھے۔ وہ جن کاموں میں مشغول تھا وہ عالم آخرت کے اعتبار سے کوئی قیمت نہ رکھتے تھے۔ جن مشاغل پر اس نے خدا اور اسلام کا بورڈ لگا رکھا تھا وہ محض اس کی ایک ذاتی تجارت تھی۔ وہ صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے متحرک تھا نہ کہ حقیقت خدا کی رضا کے لیے۔ ساٹھ کلومیٹر جابر حسین ایک ریلوے گارڈ تھے۔ ان کی ملازمت کی مدت پوری ہو چکی تھی۔ 17 جولائی 1981 کو وہ اندور۔ بلاسپور ایکسپریس سے لے کر روانہ ہوئے۔ یہ گارڈ کی حیثیت سے ان کا آخری سفر تھا۔ کیونکہ اگلے دن 18 جولائی سے وہ ریٹائر ہونے والے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے اپنی زندگی کا پورا نقشہ بنا رکھا تھا کہ اب وہ اپنے اس نقشہ کو زیر عمل لانے کے کنارے پہنچ چکے ہیں۔ ریلوے گارڈ کی حیثیت سے اپنی ڈیوٹی کے آخری سفر پر روانہ ہوتے ہوئے انھوں نے اپنے دوستوں سے کہا ”کل سے میری دوسری زندگی شروع ہوگی۔“ یہ سفر جابر حسین کے لیے واقعی آخری سفر تھا اور اس کے بعد ہی ان کی دوسری زندگی شروع ہو گئی۔ مگر اس معنی میں نہیں جس میں کہ انھوں نے سمجھا تھا کہ بلکہ کسی اور معنی میں۔ ان کی ایکسپریس ٹرین اپنی منزل سے ساٹھ کلومیٹر کے فاصلہ پر تھی کہ پیچھے سے آنے والی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page