اللہ اکبر
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
مال گاڑی ان کی ٹرین سے ٹکرا گئی۔ گارڈ کا ڈبہ چکنا چور ہوگیا۔ جابر حسین فوراً ہلاک ہوگئے۔ ایک ریلوے افسر نے اس حادثہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: Sixty kilometres more and it would have been the end of his official journey. جابر حسین نے اگر 60 کلومیٹر اور طے کر لیا ہوتا تو ریلوے ملازم کی حیثیت سے ان کا سفر پورا ہو جاتا (انڈین ایکسپریس 18 جولائی 1981)۔ یہی اس دنیا میں ہر آدمی کا حال ہے۔ ہر آدمی اپنی زندگی کو لمبی تصور کیے ہوئے ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا سفر "60 کلومیٹر" کے بعد پورا ہوگا۔ مگر موت کا فرشتہ اس کو 60 کلومیٹر سے پہلے ہی پکڑ لیتا ہے۔ ہر آدمی موجودہ دنیا میں "اپنی کل" کی تعمیر کا ایک نقشہ لیے ہوئے ہے مگر اچانک موت آ کر اس کو بتاتی ہے کہ اس کی "کل" اس دنیا میں شروع نہیں ہوتی جہاں 17 جولائی کے بعد 18 جولائی اور 18 جولائی کے بعد 19 جولائی کی تاریخیں آتی ہیں۔ بلکہ اس کی کل اس ابدی دنیا میں شروع ہوتی ہے جہاں دنیا کے کیلنڈر لپیٹ کر رکھ دئے جاتے ہیں۔ آدمی جہاں اپنے سفر کو ختم سمجھ رہا ہے وہیں سے اس کے حقیقی سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ کیسا عجیب کرنا ٹَک کے گورنر مسٹر گووند نرائن (2012-1916) کی لڑکی نندنی کی عمر ابھی صرف 38 سال تھی کہ 16 ستمبر 1981 کوئی دہلی میں اس کا انتقال ہو گیا۔ ایک ہنستی ہوئی زندگی اچانک خاموش ہوگئی۔ نندنی بہت ذہین اور تندرست تھی۔ اس کی تعلیم خالص انگریزی طرز پر ہوئی۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader