Urdu book · اللہ اکبر

کیسا عجیب

Urdu book, p. 129

By Maulana Wahiduddin Khan

کے بعد اس نے امریکا سے جرنلزم ( صحافت ) کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ہندوستان ٹائمس میں سینئر رپورٹر تھی۔ اپنی مختلف خصوصیات کی وجہ سے نندنی اپنے اخباری ساتھیوں کے درمیان بہت مقبول تھی۔ اس کے ایک ساتھی کے الفاظ میں نندنی کی زندگی کا نظریہ یہ تھا: She loved life to the full and wanted to live it to the full وہ زندگی سے آخری حد تک پیار کرتی تھی اور زندگی کے ساتھ آخری حد تک رہنا چاہتی تھی۔ نندنی کی وفات پر اس کے ساتھی رپورٹروں نے ایک یادداشت ( ہندوستان ٹائمس ، 17 ستمبر 1918 ) شائع کی ہے۔ اس یادداشت کے خاتمہ پر وہ لکھتے ہیں ۔ نندنی کی موت اس حقیقت کی ایک بے رحم یاد دہانی ہے کہ ہر آدمی کا ایک بے حد مقرر وقت ہے : It is a cruel reminder of the fact that there is a deadline for everyone. کیسی عجیب بات ہے ایک جیتی جاگتی زندگی اچانک بجھ جاتی ہے۔ ایک ہنستا ہوا چہرہ ایک لمحہ میں اس طرح ختم ہو جاتا ہے جیسے کہ وہ مٹی سے بھی زیادہ بے قیمت تھا۔ حوصلوں اور تمناؤں سے بھری ہوئی ایک روح دفعتا اس طرح منظر سے ہٹادی جاتی ہے جیسے اس کے حوصلوں اور تمناؤں کی کوئی حقیقت ہی نہ تھی۔ زندگی کس قدر بامعنی ہے۔ مگر اس کا انجام اس کو کس قدر بے معنی بنا دیتا ہے۔ آدمی بظاہر کتنا آزاد ہے مگر موت کے سامنے وہ کتنا مجبور نظر آتا ہے ۔ انسان اپنی خواہشوں اور تمناؤں کو کتنا زیادہ عزیز رکھتا ہے ، مگر قدرت کا فیصلہ اس کی خواہشوں اور تمناؤں کو کتنی بے رحمی سے کچل دیتا ہے۔ آدمی اگر صرف موت کو یاد رکھے تو وہ کبھی سرکشی نہ کرے کامیاب اجتماعی زندگی کا واحد راز یہ ہے کہ آدمی اپنی حد کے اندر رہنے پر راضی ہو جائے اور موت بلا شبہ اس حقیقت کی سب سے بہتر اور سب سے بڑی معلم ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page