اللہ اکبر
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی آج کی انسانی دنیا ہے۔ گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو آج کی دنیا میں صرف دو چیزیں نظر آتی ہیں۔ دکھ کی آہیں، یا ظلم کے قہقہے، کچھ لوگ بے انصافیوں کا شکار ہو کر آہیں بھر رہے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے حیوانی ارادوں کی تکمیل کر کے فتح کے قہقہے لگا رہے ہیں۔ کچھ لوگ بے شعوری کے گڑھے میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور کچھ لوگ بے حسی کے گڑھے میں۔ مگر یہ صورت باقی رہنے والی نہیں۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ انسان اپنے آپ کو ایک اور دنیا میں پائے گا۔ ایک ایسی دنیا جہاں فیصلہ کا سارا اختیار خدا کو ہوگا نہ کہ انسان کو۔ زبان والے بے زبان ہو جائیں گے قدیم عرب میں ایک شخص جمیل بن معمر جمحی تھا۔ وہ بہت ذہین آدمی تھا۔ اس کے اندر یہ عجیب صلاحیت تھی کہ وہ دو متضاد نقطۂ نظر پر یکساں قدرت کے ساتھ تقریر کر سکتا تھا۔ چنانچہ اس کا نام ذوالقلبین ( دودل والا) پڑگیا۔ اس قسم کے کردار مختلف شکلوں میں ہر زمانہ میں پائے گئے ہیں، مگر ذوالقلبین ہونا خدا کے مقرر کیے ہوئے فطری نقشہ سے انحراف کرنا ہے۔ یہ خدا کی دنیا میں ایک ناپسندیدہ چیز ہے نہ کہ کوئی پسندیدہ چیز۔ اس لیے قرآن میں فرمایا گیا کہ اللہ نے کسی انسان کے دودل نہیں بنائے (33:4)۔ یعنی جب عضویاتی تخلیق میں انسان کو دودل والا نہیں بنایا گیا ہے تو سوچ اور جذبات کے اعتبار سے بھی دودل والا ہونا اس کے لیے صحیح نہیں ہوسکتا۔ موجودہ دنیا میں چونکہ انسان کو آزادی حاصل ہے اس لیے یہاں کوئی شخص ایسا کرسکتا ہے کہ وہ ایک معاملہ میں ایک طرز پر سوچے اور دوسرے معاملہ میں دوسرے طرز پر سوچے،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader