اللہ اکبر
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ ایک مجمع میں ایک ڈھنگ پر بولے اور دوسرے مجمع میں دوسرے ڈھنگ پر تقریر کرے۔ وہ جسم کے اعتبار سے ایک دل والا انسان ہونے کے باوجود ذہن اور زبان کے اعتبار سے دو دل والا انسان بن کر رہے۔ بلکہ کئی دل والا انسان بن جائے۔ مگر ایسی ہر صورت خدا کے تخلیقی نقشہ کی خلاف ورزی ہے۔ وہ فطرت کے مقررہ راستہ سے انحراف کرتا ہے۔ موجودہ دار الامتحان میں کوئی شخص ایسا متضاد رویہ اختیار کر کے کامیاب ہو سکتا ہے مگر آخرت کی حقیقی اور معیاری دنیا میں اس قسم کا خلاف فطرت رویہ بالکل بے قیمت ہو کر رہ جائے گا۔ اس قسم کا انداز اختیار کرنے والا آدمی موجودہ دنیا میں خوب کامیاب رہتا ہے وہ ہر طبقہ کے لوگوں سے ان کے حسب حال بات کرتا ہے۔ وہ جس سے ملتا ہے یا جہاں جاتا ہے ہر جگہ وہی بات کہتا ہے جو وہاں کے لوگوں کی پسند کے مطابق ہو۔ مگر ایسی ہوشیاری صرف موجودہ دنیا میں کسی کے کام آ سکتی ہے کیونکہ یہ دنیا سچائی کے ظہور کی دنیا نہیں۔ آخرت سچائی کے ظہور کی دنیا ہو گی وہاں حق حق کی صورت میں اور باطل باطل کی صورت میں ظاہر ہو جائے گا۔ وہاں جمیل بن معمر تخی جیسے ماہرین بالکل بے قیمت ہو جائیں گے۔ وہ ساری مہارت کے باوجود ایسا محسوس کریں گے جیسے ان کے پاس زبان ہی نہیں جس سے وہ بولیں اور ان کے پاس قلم ہی نہیں جس سے وہ کچھ لکھ سکیں۔ کیسا عجیب میں شہر کی ایک پر رونق سڑک کے کنارے کھڑا تھا۔ تیز رفتار سواریاں مسلسل میرے سامنے سے گزر رہی تھیں۔ وہ انسانوں کو لیے ہوئے ادھر سے ادھر جارہی تھیں۔ جیسے وہ کسی منزل کی طرف رواں ہوں ۔ جیسے وہ کسی پہنچنے کی جگہ پر پہنچنا چاہتی ہوں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader