Urdu book · اللہ اکبر

کیسا عجیب

Urdu book, p. 141

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ دیکھ کر مجھے ایسا معلوم ہوا جیسے یہ سواریاں نہیں ہیں بلکہ خدا کے فرشتے ہیں جو انسانوں کو لیے ہوئے تیزی سے بھاگ رہے ہیں تا کہ جلد از جلد تمام انسانوں کو اس کے خالق وممالک کے دربار میں پہنچا دیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی منزل کی طرف جا رہے ہیں۔ حالاں کہ وہ خدا کی منزل کی طرف لے جائے جا رہے ہیں نہ کہ اپنی کسی منزل کی طرف۔ زندگی کیا ہے، موجودہ دنیا میں امتحان کی مہلت ۔موت کیا ہے، آخرت کی دنیا میں بمجر داخلہ۔ موجودہ دنیا میں ہم ٹھیک ویسے ہی ہیں جیسے طالبِ علم امتحان ہال میں ہوتا ہے۔ کوئی طالبِ علم صرف گھنٹہ بجنے تک امتحان ہال میں رہ سکتا ہے۔ گھنٹہ بجتے ہی وہ اس میں قیام کا حق کھود دیتا ہے۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں انسان صرف اس وقت تک ہے جب تک موت یا قیامت کا گھنٹہ نہ بجے ۔ گھنٹہ بجنے کے بعد نہ دنیا اس کی رہ جاتی ہے اور نہ وہ دنیا کا۔ انسان سمجھتا ہے کہ میں اپنی دنیا میں ہوں۔ حالاں کہ وہ صرف خدا کی دنیا میں ہے۔ انسان کو جو کچھ ملا ہے وہ خدا کے دئے سے ملا ہے۔ وہ عین اسی لمحہ چھن جائے گا جب کہ خدا ان کو چھننے کا فیصلہ کرے۔ اس کے بعد انسان اپنے آپ کو اس حال میں پائے گا کہ اس کے پاس ان چیزوں میں سے کچھ نہ ہوگا جن کو آج وہ اپنا سمجھ رہا ہے۔ انسان پروہ دن آنے والا ہے جب کہ وہ بھوکا ہوگا مگر اس کے پاس کھانے کو نہ ہوگا جس سے وہ اپنی بھوک مٹائے۔ وہ پیاسا ہوگا مگر اس کے پاس پانی نہ ہوگا جس سے وہ اپنے سینہ کی آگ ٹھنڈی کرے۔ اس پر سخت سردی کا موسم آئے گا مگر اس کے پاس گرم کپڑے نہ ہوں گے جن سے وہ اپنے بدن کو گرم کرے ۔ اس کو سخت گرمی کا سامنا ہوگا مگر اس کو کوئی سایہ نہ ملے گا جس کے نیچے جا کر وہ ٹھنڈک حاصل کرے۔ آہ ، کیسا عجیب دن انسان پر آنے والا ہے مگر وہ اس سے کتنا زیادہ غافل بنا ہوا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page