جب حقیقت کھلے گی
Urdu book, p. 142
By Maulana Wahiduddin Khan
جب حقیقت کھلے گی دنیا میں کچھ لوگ وہ ہیں جن کے دل خدا کے آگے جھکے ہوئے نہیں ہیں۔ وہ دکھاوے کے لیے خدا کو سجدہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا حال آخرت میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہاں جب کہا جائے گا کہ اپنے رب کو سجدہ کرو تو وہ وہاں سجدہ نہ کر سکیں گے (القلم، 42: 68)۔ سجدہ محض ایک وقتی اور رسمی نوعیت کا جسمانی فعل نہیں۔ وہ اپنے آپ کو حقیقت اعلیٰ کے آگے جھکانا ہے، وہ اپنی پوری زندگی کو حق وصداقت کے تابع بنا دینا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ اس آیت میں محدود معنوں میں صرف ”سجدہ“ کا ذکر نہیں ہے بلکہ یہ آیت پوری زندگی کے بارے میں ایک اہم حقیقت کو بتا رہی ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر شخص اور ہر قوم کا یہ حال ہے کہ ان کے دل سچائی کے آگے جھکے ہوئے نہیں ہیں۔ انھوں نے اپنے آپ کو حق کے تابع نہیں بنایا ہے۔ مگر ظاہری رویہ میں ہر ایک یہ دکھار ہا ہے کہ وہ حق پر قائم ہے۔ ہر ایک اپنی زبان سے ایسے الفاظ بول رہا ہے گویا کہ اس کا کیسا انصاف کا کیس ہے نہ کہ ظلم اور استغلال کا کیس۔ مگر اس قسم کی دھاندلی صرف موجودہ امتحانی دنیا میں ممکن ہے۔ آخرت کے آتے ہی پوری صورت حال بالکل بدل جائے گی۔ بازار میں کھوٹے سکے چل سکتے ہیں مگر بینک میں کھوٹے سکے نہیں چلتے۔ اسی طرح آخرت میں اس کا امکان ختم ہو جائے گا کہ کوئی جھوٹی بات کو سچے الفاظ میں بیان کرے۔ کوئی بے انصافی کے عمل کو انصاف کا عمل ثابت کرے ۔ آخرت میں ہوگا کہ الفاظ جھوٹے معانی کو قبول کرنے سے انکار کردیں گے۔ کسی کے لیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ ظلم کو انصاف بتائے اور باطل کو حق کے لباس میں پیش کرے۔ اس وقت ظاہر اور باطن کا فرق ختم ہو جائے گا۔ آدمی کی زبان وہی بول سکے گی جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader