اللہ اکبر
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر روز اس دنیا میں بے شمار آدمی مر رہے ہیں۔ یہ واقعہ لوگوں کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ مگر آدمی کا حال یہ ہے کہ جب وہ کسی کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ سمجھ لیتا ہے کہ موت صرف دوسروں کے لیے ہے، اس کے اپنے لیے موت نہیں۔ اپنے کو الگ کرنے کی اس نفسیات کا نتیجہ ہے کہ آدمی سبق نہیں لیتا۔ وہ موت کے عین قریب ہو کر بھی موت کے پیغام کو نہیں سنتا۔ دنیا کی حقیقت مسٹر آر این پانڈے (35 سال) ہندوستانی فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ تھے۔ وہ 12 نومبر 1983 کو جموں توی ایکسپریس پر سوار ہوئے۔ ٹرین آگے بڑھی تو انہیں احساس ہوا کہ وہ غلط ٹرین پر سوار ہو گئے ہیں۔ انہیں دراصل اتکل ایکسپریس پر سوار ہونا چاہیے تھا۔ جب اوکھلا کا اسٹیشن آیا تو وہ فرسٹ کلاس کا دروازہ کھول کر باہر کود پڑے۔ ٹرین اس وقت پوری رفتار میں تھی۔ وہ پہیہ کے نیچے آگئے اور اسی وقت کٹ کر مر گئے (ہندوستان ٹائمز، 13 نومبر 1983)۔ یہ واقعہ موجودہ دنیا میں انسان کی بے بسی کی ایک تصویر ہے انسان ٹرین بناتا ہے جب وہ اس پر بیٹھتا ہے تو وہ اس کو لے کر دوڑتی ہے اور منزل پر پہنچادیتی ہے۔ مگر اسی ٹرین کے مقابلہ میں انسان اتنا کمزور ہے کہ اس کے پہیہ کے نیچے آنے کے بعد وہ اس کی زد سے اپنے آپ کو نہیں بچاسکتا۔ ایک کامیاب انسان ہے۔ وہ ایک بہت بڑے مکان میں رہتا ہے جو اس کی خوش حال زندگی کی علامت ہے۔ اس کے گھر کے سامنے موٹر کار کھڑی ہوئی ہے جو اس کی شان میں اضافہ کرتی ہے۔ وہ ایک کارخانہ کا مالک ہے جو اس کی دولت اور ترقی کا سرچشمہ ہے۔ اس کے بے شمار ساتھی ہیں جو اس کی قوت و شوکت کا زندہ ثبوت ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader