اللہ اکبر
Urdu book, p. 151
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ وہ چیزیں ہیں جن سے آدمی کی دنیوی ترقی کا اندازہ کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ تمام چیزیں سمیٹ کر اوپر سے آدمی کے سر پر گرائی جائیں تو وہ اس کی بربادی کا ذریعہ بن جائیں گی۔ یہ گویا ایک بہت بڑا المبہ ہوگا جو آدمی کے اوپر پٹک دیا گیا اور اس کے نیچے دب کر اس کا وجود فنا ہو گیا۔ اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ دنیوی ترقی کی حقیقت کیا ہے۔ دنیا کی تمام ترقیاں اسی وقت تک ترقیاں نظر آتی ہیں جب تک وہ فریب کے روپ میں ہوں۔ جیسے ہی وہ اپنے اصلی روپ میں آئیں وہ صرف بربادی کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔ یہ ترقیاں اپنے آخری انجام کے اعتبار سے کسی کے لیے قبرستان تو بن سکتی ہیں مگر وہ کسی کے لیے کامیابی کا شاندار محل نہیں بن سکتیں۔ لذتیں جنت میں لذت ہیں اور دنیا میں صرف فریب لذت۔ انسان کی غلطی یہ ہے کہ جو چیز جنت میں ملنے والی ہے اس کو وہ موجودہ دنیا میں پانا چاہتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آدمی یہاں بھی محروم رہتا ہے اور وہاں بھی۔ بے خبر انسان آئیو ری کوسٹ (Ivory Coast) مغربی افریقہ کا ایک ساحلی ملک ہے۔ یہاں بجلی کے افراط کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ گھروں اور دکانوں کی جگمگاہٹ کی وجہ سے اس کو افریقہ کا شوکیس کہا جاتا تھا (ٹائمس آف انڈیا 4 جنوری 1984)۔ دسمبر 1983 میں اچانک وہ ایسا ملک بن گیا جہاں لوگ عالی شان ہوٹلوں میں موم بتی کی روشنی میں کھانا کھائیں اور گھروں اور دفتروں کو بھی موم بتی سے روشن کریں۔ آئیوری کوسٹ میں 92 فیصد پن بجلی کا رواج تھا مگر بارش رک جانے کی بنا پر ڈیم سوکھ گئے اور اکثر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader