بے خبر انسان
Urdu book, p. 152
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹربائن کا چلنا بند ہو گیا ۔ چنانچہ بجلی کی کٹوتی کا یہ عالم ہوا کہ بعض اوقات مسلسل گھنٹے تک بجلی غائب رہی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صنعتی پیداوار گھٹ کر 35 فیصد رہ گئی کمپیوٹر، الیکٹرک ٹائپ رائٹر (electric typewriter) ریفریجریٹر اور اکثر بجلی سے چلنے والی چیزیں بندر رہنے لگیں۔ بہت سے بڑے بڑے تاجروں نے اس اندیشہ سے دفتر جانا چھوڑ دیا کہ کہیں وہ لفت میں اٹک کر نہ رہ جائیں ایک تاجر نے اپنا حال بتاتے ہوئے نیو یارک ٹائمز کے نمائندہ سے کہا کہ سالہا سال سے میرا یہ حال تھا کہ میں اپنے ائر کنڈیشنڈ مکان سے ائر کنڈیشنڈ کار میں اور پھر ائر کنڈیشنڈ دفتر میں جاتا تھا میں نے کبھی یہ جانا ہی نہیں کہ حقیقتہً آئیسوری کوسٹ کتنا زیادہ گرم ہے: For years, I had gone from my air conditioned villa to my air conditioned car to my air conditioned office. I never realised just how hot it really is here. افریقہ جیسے گرم ملک میں ائر کنڈیشنڈ ماحول میں رہنے والا تاجر گو یا ایک مصنوعی دنیا میں رہ رہا تھا جب بجلی نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا اس وقت اس کو معلوم ہوا کہ اصل صورت حال اس کے برعکس تھی جس کو وہ اپنے ذہن میں بطور خود فرض کیے ہوئے تھا۔ یہی حال زیادہ بڑے پیمانے پر تمام انسانوں کا ہے انسان موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو آزاد پاتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ اس کی ملکیت ہے جب انسان کی موت آئے گی اس وقت اچانک اس کو معلوم ہوگا کہ یہ محض فریب تھا۔ اس نے امتحان کی آزادی کو استحقاق کی آزادی سمجھ لیا تھا اس نے خدا کے اثاثہ کو اپنا اثاثہ فرض کر لیا تھا وہ اپنے اعمال کے لیے خدا کے یہاں جواب دہ تھا مگر وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گیا کہ وہ خواہ کچھ بھی کرے کوئی اس سے پوچھ گچھ کرنے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader