انسان ذمہ دار وجود ہے
Urdu book, p. 153
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان ذمہ دار وجود ہے دوستووسکی (1881-1821) مشہور روسی ناول نگار ہے۔ اس کا ایک کامیاب ناول ”جرم وسزا“ ہے۔ اس ناول کا ہیرو ایک بد مزاج، کریہ المنظر اور لاولد بوڑھی عورت کو اس لیے قتل کر دیتا ہے کہ اس کی بڑھتی ہوئی بے کار دولت کو اپنی اعلیٰ تعلیم کے حصول کا ذریعہ بنا سکے ۔ جب یہ واقعہ ہوتا ہے تو ناول کے تمام کردار اور خود ناول کا قاری اس کو مجرم قرار دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بڑھیا کی دولت اس کے قاتل کے لیے اتنی ہی مفید تھی جتنا کسی شیر کے لیے ہرن کا گوشت ہوتا ہے، مگر شیر ہرن کو مار کر اس کا خون پی جائے تو کسی کو یہ بات عجیب نہیں معلوم ہوتی اور نہ اس کے لیے کوئی تعزیری قانون بنانے کی ضرورت محسوس ہوتی۔ مگر اسی قسم کا فعل ایک انسان کرتا ہے تو ساری انسانیت چیخ اٹھتی ہے اور چاہتی ہے کہ قاتل کو اس کے فعل کی پوری سزا دی جائے۔ اس کی وجہ کیا ہے اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ انسان کے متعلق یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار وجود ہے۔ اس کے ہر فعل کو صحیح اور غلط کی ترازو پر تولا جاتا ہے۔ جب کہ جانور اپنے اندر اس قسم کا کوئی اخلاقی شعور نہیں رکھتے۔ ان کے یہاں صرف مفید اور غیر مفید کی تقسیم ہے نہ کہ صحیح اور غیر صحیح کی۔ انسان ایک اخلاقی حیوان ہے جب کہ حیوان صرف حیوان۔ انسان اور حیوان کا یہ فرق بتاتا ہے کہ انسان اور حیوان کا معاملہ یکساں نہیں۔ حیوان کو اس کے اعمال کے لیے کسی اخلاقی عدالت میں کھڑا نہیں کیا جاسکتا۔ جب حیوان کو اعمال کے اخلاقی پہلوؤں کا شعور ہی نہیں تو اس کو اخلاق کی عدالت میں مجرم کیسے ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ مگر انسان کا معاملہ سراسر مختلف ہے۔ انسان کے اندر معاملات کے بارے میں اچھے اور برے کا احساس ہونا ہی یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ انسان اپنے اعمال کے لیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader