Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 154

By Maulana Wahiduddin Khan

اخلاق کے سامنے جواب دہ ہے۔ جس فعل پر آدمی کا اپنا اندرونی ضمیر اس کو مجرم ٹھہرا رہا ہو اس کے لیے باہر کی عدالت میں مجرم ٹھہرانا عین فطری ہے۔ تا ہم موجودہ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں کوئی ایسی عدالت نہیں جو آدمی کا اخلاقی احتساب کر سکے یہاں آدمی اپنی مجرمانہ کارروائی کو خوبصورت الفاظ میں چھپا سکتا ہے وہ قانونی نکتے نکال کر اپنے کو عدالت کی گرفت سے بچا لیتا ہے وہ زور قوت کے ذریعہ اپنے خلاف تمام زبانوں کو بند کر دیتا ہے یہ صورت حال بتاتی ہے کہ انسان کا اخلاقی احتساب کرنے والی عدالت دنیا کے موجودہ حالات میں قائم نہیں کی جا سکتی اس کے لیے ایک اور دنیا درکار ہے جہاں وہ تمام مواقع کامل صورت میں جمع ہوں جو اس پیچیدہ کام کے لیے ضروری ہیں۔ انسان کا المیہ خدا نے ایک دنیا بنائی۔ بے حد حسین اور انتہائی لذیذ دنیا۔ خدا نے اس دنیا میں آدمی کے لیے وہ سب کچھ جمع کر دیا جس کو وہ چاہتا ہے۔ اس کے بعد خدا نے اس پر کیف دنیا میں انسان کو بسایا اور لکھ دیا کہ انسان اس دنیا کو صرف دیکھے گاوہ اس کو پا نہ سکے گا۔ دنیا کا سکھ اور اس کی لذتیں آدمی کو اپنی طرف کھینچتی ہیں، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا کے سکھ اور اس کی لذتیں آدمی کے لیے نا قابل حصول ہیں۔ ایک شخص جس کو دنیا ابھی حاصل نہ ہوئی ہو وہ اپنے کو جتنا محروم سمجھتا ہے اتنا ہی وہ شخص بھی اپنے کو محروم پاتا ہے جس کو دنیا اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ حاصل ہو گئی ہو۔ بمبئی کا ایک فلم پروڈیوسر ہے گل آنند۔ اس کی شادی ایک خوبصورت عورت سے ہوئی جس کا نام شوبھا تھا۔ بظاہر اس جوڑے کے پاس وہ سب کچھ تھا جس کی کوئی شخص

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page