انسان کا المیہ
Urdu book, p. 155
By Maulana Wahiduddin Khan
تمنا کر سکتا ہے۔ بمبئی میں ان کے پاس کئی شاندار مکانات تھے، جہاں وہ خوشیوں کی جنت میں رہنے لگے۔ مگر کچھ دنوں کے بعد انہیں ایک کمی کا احساس ہونے لگا۔ وہ دو ہونے کے باوجود ابھی تک اولاد سے محروم ہیں۔ اس احساس نے دونوں کے درمیان ایک خاموش دوری پیدا کرنی شروع کی۔ بالآخر انہوں نے ایک مقامی یتیم خانہ سے ایک چھوٹا بچہ اور ایک چھوٹی بچی حاصل کی۔ وہ بیٹے اور بیٹی کے طور پر ان کی پرورش کرنے لگے۔ تاہم یہ مصنوعی تدبیر ان کی محرومی کے احساس کو ختم نہ کرسکی۔ دوری یہاں تک بڑھی کہ دونوں الگ مکانوں میں رہنے لگے۔ شوبھا کے ڈاکٹروں نے تجویز کیا کہ اس کو ذہنی اختلال ہے۔ دس سال تک وہ اس مفروضہ کے تحت اس کا علاج کرتے رہے، مگر بے سود۔ بالآخر 8 فروری 1983 کو یہ المناک کہانی ختم ہوگئی۔ شوبھا بمبئی میں پیڈار وڈ کے ”نیلم بار“ میں سولہویں منزل پر ایک اپارٹمنٹ میں رہتی تھی۔ اس نے 8 فروری کو اندر سے دروازہ بند کرلیا۔ پہلے اپنے بچوں کو کھڑکی سے باہر پھینکا اور اس کے بعد خود بھی چھلانگ لگادی۔ تینوں نیچے گرتے ہی مر گئے۔ انگریزی اخبار کی رپورٹنگ کے مطابق شوبھا کے شوہر (گل آنند) نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا: I don't know the exact medical terms for my wife's mental disorders. اپنی بیوی کے ذہنی اختلال کو بیان کرنے کے لیے متعین طبی اصطلاح مجھے معلوم نہیں (ٹائمز انڈیا، بمبئی، 9 فروری 1983)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader