چالیس سال بعد
Urdu book, p. 156
By Maulana Wahiduddin Khan
چالیس سال بعد 31 جولائی 1984 کو دہلی فیض روڈ کے پاس ایک لاش ملی۔ اس کی عمر تقریباً ساٹھ سال تھی اور اس کو بری طرح قتل کر کے ایک پارک میں ڈال دیا گیا تھا۔ پولیس نے کافی کوشش کی اور اشتہارات دیے، مگر مقتول کی شناخت ممکن نہ ہوسکی۔ مقتول کے جسم پر جو قمیض تھی اس پر” آزاد ٹیلرس“ کا لیبل لگا ہوا تھا۔ مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس پر کوڈ نمبر 52 بھی درج ہے۔ کافی تلاش وجستجو کے بعد آخر کار پولیس ساون پارک کی ایک چھوٹی سی دکان تک پہنچی۔ اس دکان کے مالک صلاح الدین نے بڑی مشکل سے ”پانڈے“ نام کے ایک شخص کی نشاندہی کی۔ اس کے بعد پولیس قریب کے ” کمال کلاٹھ ہاؤس“ تک پہنچی جس نے بتایا کہ مذکورہ شخص کا پورا نام دیو نرائن پانڈے تھا۔ اس کا وطن فیض آباد تھا اور کام کے لیے وہ دہلی میں رہتا تھا۔ دیو نرائن پانڈے موزائک فرش کی پالش (mosaic floor polish) کا کام کرتا تھا ۔ پولیس کی یہ تحقیق جاری رہی۔ بالآخر معلوم ہوا کہ مذکورہ شخص نے چالیس سال پہلے ایک شخص کو کسی ذاتی رنجش کی بنا پر مار ڈالا تھا۔ اس مقتول کا بھتیجا مہندر کمار چودھری ( 23 سال ) بچپن سے اپنے گھر میں سنتا آیا تھا کہ پانڈے نے اس کے چچا کو قتل کیا ہے۔ اس کے دل میں انتقام کی آگ بھڑکی ہوئی تھی۔ چنانچہ اس نے دیو نرائن پانڈے سے دوستی کی اور ایک دن موقع پا کر اس کا قتل کر دیا۔ قاتل اب پولیس کی حراست میں ہے اور اس نے جرم کا اقبال کر لیا ہے (ہندوستان ٹائمس، 14 ستمبر 1984ء)۔ مہندر کمار چودھری کا خاندان چالیس سال بعد بھی اپنے قاتل کو نہ بھلا سکا۔ اس کے انتقام کی آگ اس وقت تک ٹھنڈی نہ ہوئی جب تک اس نے مارنے والے کو مار نہ ڈالا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader